نئے صوبوں کے متعلق زور زبردستی قبول نہیں، تحفظات دور نہ ہوئے تو ن لیگ سے تعاون نہیں کریں گے: بلاول بھٹو

اسلام آباد (دی انڈس ٹربیون) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کے تحفظات دور نہ کیے گئے تو وہ مسلم لیگ ن کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہوں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا، اس پر پارٹی کو شدید تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے ان تحفظات کے ازالے کے لیے رابطہ کیا تو بات چیت ضرور کی جائے گی، تاہم انصاف نہ ملنے کی صورت میں حکومت کے ساتھ تعاون نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ’’اگر آپ ہمارے تحفظات دور نہیں کرتے تو ہم تعاون نہیں کریں گے، البتہ قومی نوعیت کے معاملات پر تعاون کیا جا سکتا ہے۔‘‘

نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی کا مؤقف

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے نئے صوبوں کے قیام سے متعلق کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف واضح ہے کہ عوام جو فیصلہ کریں گے، پیپلز پارٹی اس کے ساتھ کھڑی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی اسمبلی کے فیصلے کی مخالفت کیسے کرسکتی ہے، جب تک متعلقہ اسمبلی خود اس کی مخالفت نہ کرے۔ ان کے مطابق گلگت بلتستان کے عوام صوبے کی صورت میں آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ جنوبی پنجاب کے حوالے سے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کمیٹی میں اتفاقِ رائے موجود ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جس طرح گلگت بلتستان کے عوام اور پارلیمانی فورمز کی رائے کا احترام کیا جانا چاہیے، اسی طرح سندھ اسمبلی کی متعدد قراردادوں کا بھی احترام ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’زور زبردستی کو نہ کل مانے ہیں اور نہ کبھی مانیں گے۔‘‘

بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور سندھی قوم پرستوں کے گٹھ جوڑ کا دعویٰ

بلاول بھٹو زرداری نے دعویٰ کیا کہ جب وہ وزیر خارجہ تھے تو اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بعض سندھی قوم پرست گروہوں کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس معاملے سے دنیا کو بھی آگاہ کیا گیا تھا اور کراچی یا بلوچستان میں حملوں کے دوران یہ گروہ ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔ ان کے بقول یہ سرگرمیاں پاکستان میں بیٹھ کر کی جا رہی ہیں۔

بلاول بھٹو نے الزام عائد کیا کہ آپریشن سندور میں ناکامی کے بعد بھارت پاکستان کے اندر قوم پرست اور علیحدگی پسند گروہوں کو ہوا دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح ایران میں اسرائیل کی مبینہ سازش کو ناکام بنانے کی کوشش کی گئی، اسی طرح بھارت کی مبینہ سازش کو بھی ناکام بنانا چاہیے۔

آزاد کشمیر انتخابات پر اعتراضات

بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کو انتخابات میں ہرایا گیا اور اگر مسلم لیگ ن کو ایسا متنازع انتخاب درکار تھا تو انہیں مبارک ہو۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے انتخابات سے قبل اپنے تحفظات سے حکومت کو آگاہ کیا اور سکیورٹی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ ان کے بقول مظفرآباد میں ایک امیدوار پر حملہ ہوا جبکہ وفاقی حکومت سے وابستہ افراد بھی وہاں موجود تھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں ایک متنازع حکومت عوام کے مسائل حل نہیں کرسکتی، اس لیے ضروری ہے کہ وہاں عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومت قائم ہو۔

’آئین ملک کی ریڑھ کی ہڈی ہے‘

وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام کو بوسیدہ قرار دینے سے متعلق بیان پر بلاول بھٹو نے کہا کہ ’’نظام ناکارہ‘‘ کا لفظ بہت بھاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ محسن نقوی کو سیاست کا اتنا تجربہ نہیں، شاید وہ موجودہ نظام کے بارے میں بات کر رہے ہوں۔ بلاول بھٹو کے مطابق آئین کسی بھی ملک کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور 1973 کے آئین کو کئی مرتبہ توڑا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جب ملک کے آئین کو بار بار نقصان پہنچایا جائے تو پھر یہ کہنا کہ نظام ناکارہ ہوگیا ہے، مناسب نہیں۔

ترامیم پر اتفاقِ رائے کی حمایت

بلاول بھٹو نے کہا کہ فی الحال حکومت کی جانب سے کسی آئینی ترمیم کا کوئی نکتہ پیپلز پارٹی کے سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم کے حوالے سے وہ اپنا مؤقف پہلے ہی بیان کرچکے ہیں جبکہ 27ویں ترمیم کا بھی حوالہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب کوئی باقاعدہ تجویز سامنے آئے گی تو پیپلز پارٹی اس پر بات کرے گی۔ جہاں اتفاقِ رائے موجود ہو وہاں فیصلہ اتفاقِ رائے سے ہونا چاہیے، جبکہ اختلاف کی صورت میں سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

عمران خان کی صحت کے لیے نیک خواہشات

بلاول بھٹو زرداری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے حوالے سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ عمران خان کا علاج ہو اور وہ صحت یاب ہوجائیں۔

اپوزیشن سے رابطے، پارلیمانی کمیٹیوں کی بحالی پر زور

اپوزیشن سے ملاقاتوں کے حوالے سے بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا اپوزیشن سے رابطہ ہوا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کر بات کریں۔

انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس سے ان کی ملاقات ہوئی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ پارلیمان کو عزت دی ہے اور خواہش ہے کہ اپوزیشن جماعتیں پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آئیں۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو فعال بنانے کے لیے قائمہ کمیٹیوں کا فعال ہونا ضروری ہے اور ان کمیٹیوں میں اپوزیشن کا کردار انتہائی اہم ہے۔

بلاول بھٹو نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ وہ انتخابی عمل میں بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اپوزیشن انتخابی نظام میں بہتری چاہتی ہے تو انتخابی اصلاحات کے لیے مل کر کام کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں