ٹیکسلا: ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کیس، مدعی والد اور بھائی سمیت پانچ افراد مبینہ طور پر قاتل نکلے

راولپنڈی(ویب ڈیسک) پنجاب کے علاقے ٹیکسلا میں سوشل میڈیا پر عائشہ گلامنہ کے نام سے معروف ٹک ٹاکر شمسو بی بی کے قتل کیس میں پولیس نے اہم پیش رفت کا دعویٰ کرتے ہوئے مقتولہ کے والد اور بھائی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہیں جبکہ دو مبینہ شوٹرز کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز راولپنڈی طارق محبوب کے مطابق گرفتار ملزمان میں مقتولہ کے والد فضل، بھائی بشیر، چچا زاد بھائی احسان، والد کے چچا روزی خان اور چچا زاد بھائی کا بیٹا یاسین شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران سامنے آیا کہ شمسو بی بی کو مبینہ طور پر اس کے والد اور بھائی کی ہدایت پر قتل کیا گیا، جبکہ دیگر رشتہ داروں نے بھی اس منصوبے میں معاونت کی۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ کیس ایک ’بلائنڈ مرڈر‘ تھا۔ تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جنہوں نے جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب 100 سے زائد سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کا جائزہ لیا۔ تکنیکی شواہد، انسانی ذرائع اور دیگر معلومات کی بنیاد پر تفتیش کا دائرہ مقتولہ کے قریبی رشتہ داروں تک پہنچا، جس کے بعد والد اور بھائی سمیت پانچ افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش جرم میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، جبکہ دو مبینہ شوٹرز کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مزید تفتیش جاری ہے اور مقدمے کو دستیاب شواہد کی بنیاد پر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

واقعہ کیسے پیش آیا؟

شمسو بی بی کو 14 اگست 2026 کی شام ٹیکسلا کے علاقے میں اس وقت فائرنگ کرکے قتل کیا گیا جب وہ اپنے بھائی اور کم عمر بہن کے ہمراہ گاڑی میں گھر سے نکلی تھیں۔ پولیس کے مطابق انہیں ایک فون کال موصول ہوئی تھی جس کے بعد وہ گھر سے باہر آئیں۔ راستے میں موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔

فائرنگ کے نتیجے میں شمسو بی بی کی گردن میں گولی لگی اور گاڑی بے قابو ہوکر ایک ڈمپر سے جا ٹکرائی۔ واقعے میں ان کی بہن بھی زخمی ہوئی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف قتل، اقدامِ قتل اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ مقدمے کا مدعی خود مقتولہ کا والد تھا، جس نے ابتدائی بیان میں قتل کا الزام دیگر افراد پر عائد کیا تھا۔

قتل کی وجہ کیا بتائی گئی؟

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں قتل کو غیرت کے نام پر قتل قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مقتولہ کے گھر والے اس کی سوشل میڈیا سرگرمیوں اور ویڈیوز کو پسند نہیں کرتے تھے، تاہم پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش کے دوران قتل کے محرک سے متعلق مزید حقائق بھی سامنے آسکتے ہیں۔

مقتولہ کے قتل کے فوراً بعد درج ایف آئی آر میں ایک مختلف مؤقف سامنے آیا تھا۔ اس میں مالی تنازع اور مبینہ دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے بعض افراد پر شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس کی تفتیش میں کیس کا رخ مقتولہ کے قریبی خاندان کی طرف ہوگیا۔

شمسو بی بی کون تھیں؟

شمسو بی بی، جو سوشل میڈیا پر عائشہ گلامنہ کے نام سے جانی جاتی تھیں، ٹک ٹاک پر خاصی مقبول تھیں اور ان کے اکاؤنٹ پر 13 لاکھ سے زائد فالوورز تھے۔ وہ گزشتہ کئی برس سے سوشل میڈیا پر ویڈیوز بنا رہی تھیں۔ ان کا یوٹیوب اکاؤنٹ بھی تھا، جہاں ان کے ہزاروں سبسکرائبرز موجود تھے۔

ان کے قتل کے بعد ان کا ٹک ٹاک اکاؤنٹ پرائیویٹ کردیا گیا۔ واقعے کے ابتدائی مرحلے میں سوشل میڈیا پر ان کے قتل پر شدید ردعمل سامنے آیا اور پولیس سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا۔

راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تفتیش جاری ہے اور گرفتار ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد کی بنیاد پر قانونی کارروائی مکمل کرکے انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں