حیدرآباد (دی انڈس ٹربیون) سندھ ایکشن کمیٹی کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور وسائل پر قبضے کے خلاف حیدرآباد میں ’’وحدتِ سندھ مارچ‘‘ کیا گیا، جس میں مختلف سیاسی، قوم پرست اور ترقی پسند جماعتوں کے کارکنوں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
مارچ قاسم آباد کے پونم چوک سے شروع ہوا اور وادہو واہ روڈ، نسیم نگر چوک سے ہوتا ہوا وادہو واہ گیٹ پہنچا، جہاں احتجاجی مارچ نے جلسے کی شکل اختیار کرلی۔ شرکا نے ’’سندھ کی تقسیم نامنظور‘‘ اور ’’سندھ کے وسائل پر قبضہ نامنظور‘‘ کے نعرے لگائے۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے قائم مقام صدر روشن برڑو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اس وقت مشکل دور سے گزر رہا ہے اور سندھ کے عوام کو متحد ہوکر اپنے وطن کے خلاف سازشوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا اور سندھ کی تقسیم کے حامیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔

جئے سندھ قومی محاذ (بشیر خان قریشی) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ سندھ کی تاریخی اور جغرافیائی حیثیت کے تحفظ کی تحریک کا یہ ابتدائی مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکل کر اپنے وطن کے تحفظ کا عزم ظاہر کریں گے۔
جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو نے کہا کہ پاکستان میں حقیقی جمہوریت موجود نہیں اور سندھ کے حقوق کے معاملات میں پنجاب کا غلبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایک وحدت ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جاسکتا۔
عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری نے الزام عائد کیا کہ سندھ کی زمینوں، وسائل اور دریائے سندھ پر قبضے کے لیے نئے صوبوں کا منصوبہ پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کو تقسیم کرکے سندھی قوم کے وجود کو کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
معروف دانشور جامی چانڈیو نے کہا کہ سندھ ناقابلِ تقسیم وطن ہے۔ ان کے مطابق سندھ کے دریا، وسائل اور جزائر کا تحفظ سندھ کے عوام کے اتحاد سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ایکشن کمیٹی کی اپیل پر ہونے والے مارچ میں پورا سندھ متحد نظر آیا ہے اور عوام کسی بھی نام پر سندھ کی تقسیم قبول نہیں کریں گے۔
سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنما منیر حیدر شاہ نے کہا کہ جب بھی سندھ کے خلاف کوئی مسئلہ سامنے آیا، سندھ کے عوام نے احتجاج کیا، جبکہ اقتدار میں موجود لوگ اپنی کرسی بچانے میں مصروف رہے۔ انہوں نے سندھ کی تقسیم اور نہروں سمیت ایسے منصوبوں کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا۔
سندھ ہاری کمیٹی کے مرکزی صدر کامریڈ ثمر حیدر جتوئی نے کہا کہ سندھ ہزاروں سال پرانا تاریخی وطن ہے اور اسے تقسیم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ سندھ کی وحدت کے معاملے پر ہوش سے کام لیں۔
نیشنل پارٹی سندھ وحدت کے صدر تاج مری نے کہا کہ سندھی قوم کسی صورت سندھ کی تقسیم قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حقیقی ترقی کی جانب لے جانے کے لیے تمام قوموں کے حقوق اور تاریخی وطنوں کے وسائل، پانی اور زمینوں کا احترام ضروری ہے۔
احتجاجی مارچ سے پورہیت مزاحمت تحریک کے صدر مسرور شاہ اور معروف صحافی نعمت کھوڑو سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔
مارچ میں ایڈووکیٹ کشش خواجہ، احمد نواز انقلابی، ذوالفقار علی بھٹو جونیئر رابطہ کمیٹی کے رہنما ارشاد خاصخیلی اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کے رہنماؤں، کارکنوں اور دانشوروں نے بھی شرکت کی۔