پی ٹی آئی مارچ کو روکنے کیلئے اسلام آباد ریڈ زون سیل، اٹک پل پر نوکیلے کیل لگا دیے گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک)پاکستان تحریکِ انصاف کے 27 ستمبر کو اعلان کردہ احتجاجی مارچ کے پیش نظر اسلام آباد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اٹک پل پر کنٹینرز اور دیگر رکاوٹیں کھڑی کر کے آمدورفت محدود کر دی گئی ہے جبکہ اٹک پل پر اسپائکس (نوکیلے کیل) بھی لگا دیے گئےہیں۔

میڈیا رپورٹس اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز کے مطابق اٹک پل کے اطراف اسلام آباد جانے والے راستوں پر کنٹینرز نصب کیے گئے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر ریت اور مٹی سے بھری بوریاں بھی پہنچائی جا رہی ہیں۔ انتظامیہ کا مقصد ممکنہ طور پر احتجاجی قافلوں کو وفاقی دارالحکومت کی جانب بڑھنے سے روکنا ہے۔

دوسری جانب راولپنڈی سے اسلام آباد داخل ہونے والے پشاور روڈ کے روات ٹی چوک پر نصب کنٹینرز ہٹا دیے گئے ہیں، جس کے بعد جمعے کو ہلکی ٹریفک کے لیے راستہ کھول دیا گیا۔ تاہم شہریوں کو سفر سے قبل راستوں کی صورتحال معلوم کرنے اور متبادل شاہراہیں استعمال کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

احتجاج سے قبل اسلام آباد کے داخلی و خارجی راستوں اور اہم شاہراہوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز پہنچا دیے گئے ہیں۔ پنجاب کے مرکزی اضلاع سے گزرنے والے بعض دریائی پلوں کے اطراف بھی اضافی رکاوٹیں قائم کی جا رہی ہیں تاکہ احتجاجی کارکنوں کی ممکنہ نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ جمعے کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں کسی کو بھی شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس اعلان کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ داخلی راستوں پر گاڑیوں اور مسافروں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کے مطابق 27 ستمبر سے قبل ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کر دیا جائے گا۔ ریڈ زون میں ڈپلومیٹک انکلیو کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس، ایوانِ صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، اسلام آباد ہائی کورٹ اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں شامل ہیں۔ حساس تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی نفری تعینات کی جائے گی اور داخلے کے لیے خصوصی اجازت نامے کی پابندی سخت ہونے کا امکان ہے۔

وزارتِ داخلہ نے احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور پنجاب کے چار اضلاع میں رینجرز تعینات کرنے کی منظوری بھی دے دی ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق رینجرز پولیس کے ساتھ مل کر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اقدامات کرے گی اور کسی بھی پرتشدد صورتحال یا مسلح جتھے کے حملے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

راستوں کی بندش اور سکیورٹی اقدامات سے اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کرنے والے شہریوں کو مشکلات کا خدشہ ہے۔ تاجر برادری، طلبہ، سرکاری ملازمین اور روزانہ سفر کرنے والے افراد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متبادل راستوں اور ٹریفک پلان سے بروقت آگاہ کیا جائے، تاکہ مریضوں، طلبہ اور ضروری کام سے سفر کرنے والوں کو کم سے کم دشواری ہو۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا اور سرکاری عمارتوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ پی ٹی آئی احتجاج کو اپنا آئینی و جمہوری حق قرار دے رہی ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے یا قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جبکہ پی ٹی آئی قیادت نے کارکنوں سے پرامن احتجاج کی اپیل کی ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج سے قبل رکاوٹوں، ریڈ زون کی بندش اور رینجرز کی تعیناتی کے باعث وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی صورتحال غیر معمولی ہو گئی ہے۔ انتظامیہ کو اب امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں کی آمدورفت ممکن حد تک بحال رکھنے کا چیلنج درپیش ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں