لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور پنجاب کی سابق وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کوٹ لکھپت جیل میں قید کے دوران اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پینٹنگ اور کڑھائی کے خوبصورت نمونے تیار کیے ہیں، جنہیں ان کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر ’’Beyond the Bars‘‘ (سلاخوں کے پیچھے) کے عنوان سے ورچوئل نمائش میں پیش کیا گیا۔
21 ستمبر کو اپنی 76ویں سالگرہ منانے والی ڈاکٹر یاسمین راشد کی جانب سے جیل میں تیار کیے گئے کڑھائی کے کام کی تصاویر حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر سامنے آئیں۔ ان کے تیار کردہ نمونوں میں پرندوں، تتلیوں، پھولوں، پودوں، پہاڑوں اور دیگر اشکال کے رنگ برنگے ڈیزائن نمایاں ہیں۔ بعض ڈیزائن کشنز اور تکیوں پر ہاتھ سے بنائے گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے اس مجموعے کو ’’Beyond the Bars‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان کے ساتھ منسوب پیغام میں کہا گیا کہ یہ تخلیقات کسی اسٹوڈیو میں نہیں بلکہ ’’سلاخوں کے پیچھے‘‘ تیار کی گئیں، جہاں ہر ٹانکا صبر اور ہر رنگ امید کی علامت ہے۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں جب انسان کے اختیار میں بہت کچھ نہ ہو، تخلیقی عمل مشکل وقت میں سہارا بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں کڑھائی کے ذریعے بنائے گئے ہاتھی، گھوڑے، اُلو، بلیاں، پرندے، تتلیاں اور پھولوں کے ڈیزائن بھی شامل ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی بعض تخلیقات کو الگ الگ نام بھی دیے ہیں۔ ان کے بارے میں یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ انہوں نے دورانِ قید ایک کتاب بھی تحریر کی ہے جسے مستقبل میں شائع کرنے کا ارادہ ہے۔
9 مئی کے واقعات کے بعد گرفتاری
ڈاکٹر یاسمین راشد کو 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد گرفتار کیا گیا۔ انہیں ابتدائی طور پر 12 مئی 2023 کو مینٹیننس آف پبلک آرڈر (MPO) کی دفعہ 3 کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں انہیں 9 مئی کے واقعات سے متعلق مختلف مقدمات میں بھی گرفتار کیا گیا اور وہ طویل عرصے سے زیرِ حراست ہیں۔
9 مئی 2023 کو سابق وزیراعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج اور ہنگامہ آرائی ہوئی تھی۔ لاہور سمیت متعدد مقامات پر سرکاری و فوجی تنصیبات اور املاک کو نقصان پہنچانے کے مقدمات درج کیے گئے۔
ڈاکٹر یاسمین راشد کے خلاف بھی 9 مئی کے واقعات سے متعلق متعدد مقدمات قائم کیے گئے، جن میں لاہور میں پولیس کی گاڑیوں کو جلانے اور شادمان پولیس اسٹیشن پر حملے سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
عدالت سے 10، 10 سال قید کی سزائیں
11 اگست 2025 کو لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی سے متعلق دو مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان مقدمات میں ایک کیس رحمت بیکری کے قریب پولیس گاڑیوں کو جلانے جبکہ دوسرا شادمان پولیس اسٹیشن پر حملے سے متعلق تھا۔ عدالت نے دونوں مقدمات میں بعض ملزمان کو بری بھی کیا تھا۔
بعد ازاں جون 2026 میں لاہور کی ایک انسدادِ دہشت گردی عدالت نے مغلپورہ کے علاقے میں 9 مئی کے دوران پولیس کی گاڑیوں کو نذرِ آتش کرنے کے مقدمے میں بھی ڈاکٹر یاسمین راشد کو 10 سال قید کی سزا سنائی۔ اس مقدمے میں سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بری کیا گیا جبکہ یاسمین راشد سمیت بعض دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو سزا دی گئی۔
ان مقدمات میں ڈاکٹر یاسمین راشد اور دیگر ملزمان کی جانب سے الزامات اور عدالتی فیصلوں کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کا معاملہ بھی زیرِ سماعت رہا ہے۔ 2025 کے فیصلوں میں دفاع کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ بعض مقدمات میں ایک ہی مبینہ سازش اور شواہد کی بنیاد پر بار بار کارروائی کی گئی، جبکہ استغاثہ نے مقدمات میں اپنے شواہد اور الزامات پیش کیے۔
یوں ایک طرف ڈاکٹر یاسمین راشد 9 مئی سے متعلق مقدمات میں طویل قید اور عدالتی سزاؤں کا سامنا کر رہی ہیں، تو دوسری جانب جیل کے دوران تیار کیا گیا ان کا فنی کام ان کی زندگی کے ایک مختلف پہلو کو سامنے لا رہا ہے۔ ’’Beyond the Bars‘‘ کے ذریعے پیش کی جانے والی یہ تخلیقات اب ان کی قید کے دوران اختیار کیے گئے ایک تخلیقی مشغلے کی صورت میں سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہی ہیں۔