عمرکوٹ(انڈس ٹربیون) سندھین نیشنل کانگریس ضلع عمرکوٹ کے زیر اہتمام ’’سندھ ہماری جان‘‘ مارچ نکالا گیا، جس کی قیادت مرکزی صدر محب آزاد، مرکزی نائب صدر ہالار رتڑ، مرکزی جنرل سیکریٹری سارنگ جویو، مرکزی جوائنٹ سیکریٹری غنی عاجز، مرکزی مالیات سیکریٹری سہنی جویو اور مرکزی سندھین نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر غنی امان نے کی۔
مارچ سے خطاب کرتے ہوئے رہنماؤں نے کہا کہ سندھین نیشنل کانگریس سندھ کی سرزمین پر ہونے والی ہر مبینہ یلغار کا سیاسی جواب دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کو اس وقت کثیرالجہتی خطرات کا سامنا ہے، جن میں کارپوریٹ فارمنگ، مبینہ غیرمقامی آبادکاری، وسائل کا استحصال اور ماحولیاتی تباہی شامل ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ ’’سندھ ہماری جان‘‘ مہم ستمبر سے نومبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران سندھ کے مختلف اضلاع، شہروں، دیہات اور محلوں میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق مہم کا مقصد سندھ کی وحدت اور وسائل کے تحفظ کے لیے عوام کو منظم کرنا اور عوامی جدوجہد کے ذریعے ریفرنڈم کی راہ ہموار کرنا ہے۔
سندھین نیشنل کانگریس کے رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ سندھ کو تاریخی وطن تسلیم کرتے ہوئے سندھ کے عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے ریفرنڈم کرایا جائے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے کوئلے، تیل، گیس، گرینائٹ اور دیگر قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد سندھ کے عوام کو مناسب طور پر نہیں مل رہے، جبکہ حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد کے خلاف مبینہ طور پر کارروائیاں کی جاتی ہیں۔
رہنماؤں نے کہا کہ سندھین نیشنل کانگریس سندھ کی نجات کو قومی آزادی میں سمجھتی ہے اور عالمی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ سندھ کے عوام کے سیاسی و قومی حقوق کے حصول میں کردار ادا کیا جائے۔