ریاض: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم اسٹریٹیجک، سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں سعودی عرب کو درپیش سکیورٹی خطرات کا جائزہ لیتے ہوئے ضرورت پڑنے پر فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کو سعودی عرب میں فوری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ریاض میں 5 اکتوبر کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان کے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق تینوں ممالک نے اجتماعی دفاع سے متعلق اپنے وعدوں پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فراہمی اور ضرورت پڑنے پر ان کی سعودی عرب میں تیز رفتار تعیناتی کے لیے اقدامات کی منظوری دی گئی۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ یہ تمام اقدامات طے شدہ انتظامات اور تینوں رکن ممالک کے قومی قوانین کے مطابق کیے جائیں گے۔
تینوں ممالک نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے دیگر شہروں، شہری تنصیبات اور معاشی مراکز پر حملوں کو بھی ناقابل قبول قرار دیا۔
فریقین نے کہا کہ سعودی عرب کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کے خلاف کسی بھی حملے یا دھمکی کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
پاکستان اور ترکی نے سعودی مسلح افواج کی تیاری، چوکسی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ سعودی افواج نے مملکت کو درپیش خطرات کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا ہے۔
پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نعمان محمود سیکریٹری جنرل مقرر
اجلاس میں پاکستان کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو تین سال کے لیے مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکریٹری جنرل مقرر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
تینوں ممالک نے ان کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ اتحاد کے مقاصد کے حصول اور اسے مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مکہ دفاعی اتحاد تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاع اور سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے متحدہ مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
تینوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کسی ایک رکن ملک کی سلامتی دراصل تینوں ممالک کی مشترکہ سلامتی ہے۔
یمن میں لڑائی شدت اختیار کرگئی
دوسری جانب یمن میں بھی لڑائی میں شدت آگئی ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے صوبہ تعز میں پیش قدمی کا دعویٰ کرتے ہوئے ساحلی شہر المخا اور آبنائے باب المندب کے قریب بعض مقامات کا کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یمنی حکومت کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحاد کی فضائی مدد سے حکومتی فورسز نے شدید لڑائی کے بعد المخا شہر کا کنٹرول سنبھالا جبکہ باب المندب کے قریب واقع ہوائی اڈے پر بھی قبضے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تاہم حوثیوں نے حکومتی فورسز کی پیش قدمی کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔ حوثی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی فورسز نے تعز کے بعض اضلاع میں حکومت نواز جنگجوؤں کو پسپا کیا ہے۔
ادھر سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فضائی اور بحری کارروائیاں بھی تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اتحاد کے مطابق بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر الحدیدہ میں حوثیوں کے فوجی ٹھکانوں، اسلحے کے گوداموں اور بارودی مواد سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں کے زیر انتظام خبر رساں ادارے سبا کے مطابق صنعا پر ہونے والے حملوں میں دو خواتین ہلاک اور بچوں سمیت سات افراد زخمی ہوئے، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں کا دعویٰ
حوثیوں نے سعودی عرب کے اندر بھی متعدد فوجی کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ، رابغ میں آرامکو کی ایک آئل ریفائنری، ابھا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور خمیس مشیط کے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
سعودی حکام کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی، تاہم اے ایف پی اور کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب رہائشیوں کے مطابق ریاض کے شمالی علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
حوثیوں نے شہری ایئرلائنز کو سعودی فضائی حدود استعمال کرنے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی فضائی حدود کے علاوہ سعودی عرب کے دیگر علاقوں کو ان کے حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔