تہران: ایران نے ممکنہ امریکی حملے کے پیش نظر خواتین سمیت شہریوں کو ہتھیار چلانے اور شہری جنگ سے نمٹنے کی تربیت دینا شروع کردی ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر اور ویڈیوز میں خواتین کو، جن میں بعض نے فوجی وردیاں پہن رکھی ہیں، تہران کے کھلے تربیتی مراکز میں اسالٹ رائفلز استعمال کرنے کی تربیت لیتے دیکھا جاسکتا ہے۔
منتظمین کے مطابق خواتین کے لیے خصوصی تربیتی کورسز میں شہری دفاع، ہتھیاروں کا استعمال، ریسکیو، فائر فائٹنگ اور نیویگیشن شامل ہیں۔ تربیت میں کلاشنکوف اور ڈریگنوف اسنائپر رائفل سمیت راکٹ لانچر (RPG) اور کندھے سے چلائے جانے والے فضائی دفاعی میزائلوں سے متعلق بنیادی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
یہ مہم ’’جان فدا‘‘ کے نام سے شروع کی گئی وسیع عوامی متحرک کاری کا حصہ ہے۔ فارسی میں جان فدا کا مفہوم ’’اپنی جان قربان کرنے والے‘‘ ہے۔ یہ تحریک رواں سال امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف بمباری کی مہم کے بعد شروع کی گئی۔
مہم کے ترجمان ساسان زارع کے مطابق فوجی تربیت بسیج ملیشیا کے زیر انتظام شروع کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’قومی مزاحمت‘‘ بٹالینز کے لیے رجسٹریشن کھلنے کے صرف 100 منٹ میں 5 لاکھ سے زائد افراد نے اندراج کرایا، جس کے نتیجے میں ابتدائی ایک ہزار یونٹس مکمل ہوگئے۔
حکام نے بعد ازاں مزید ایک ہزار یونٹس کی منظوری دی۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای، جو فروری کے اواخر میں امریکی و اسرائیلی بمباری کے دوران زخمی ہونے کے بعد منظرعام پر نہیں آئے، نے گزشتہ ہفتے ایک پیغام میں شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت کو سراہا۔
منتظمین نے ریڈ کریسنٹ کے تعاون سے ملک بھر میں 10 ہزار محلہ سطح کے امدادی اور ریسکیو یونٹس قائم کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ہے، جن میں خواتین کی بڑی تعداد میں رضاکارانہ شرکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
تہران میں پہلا تربیتی مرکز امام حسین اسکوائر پر قائم کیا گیا ہے، جبکہ دارالحکومت میں کم از کم 14 مراکز قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ صوبائی مراکز میں بھی مزید تربیتی مقامات قائم کیے جائیں گے۔ ان مراکز کو بسیج، اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) اور ایرانی باقاعدہ فوج کی نگرانی میں چلایا جا رہا ہے۔
ساسان زارع نے دعویٰ کیا کہ بعض غیر ملکی، جن میں کچھ امریکی شہری بھی شامل ہیں، ایرانیوں کے ساتھ مل کر لڑنے کی پیشکش کرچکے ہیں۔ ان کے مطابق تہران کے ایک مرکز میں 80 سالہ خاتون نے بھی رضاکارانہ طور پر اپنا نام درج کرایا۔
ایرانی حکام اس مہم کو 1980 میں عراق کے حملے کے بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی کی جانب سے دی جانے والی ’’20 ملین کی فوج‘‘ کی اپیل کی تجدید قرار دے رہے ہیں۔ ایران عراق جنگ کے دوران خواتین نے بھی مختلف معاون کردار ادا کیے تھے۔
دوسری جانب ایرانی عسکری قیادت نے بھی ممکنہ نئی جنگ کے حوالے سے سخت بیانات دیے ہیں۔ مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کے سربراہ جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف نئی جنگ مسلط کی گئی تو ’’اس کی آگ سب کو اپنی لپیٹ میں لے گی‘‘ اور امریکی مفادات کو ’’بلاحدود‘‘ نشانہ بنایا جائے گا۔
ایرانی فوج کے کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور کسی بھی نئے حملے کی صورت میں ایران کی مسلح افواج ’’کچل دینے والا‘‘ جواب دیں گی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ایران حالیہ تنازع میں فتح یاب ہو کر ابھرا ہے۔
ایران کی سفارتی کوششیں بھی جاری
جنگی تیاریوں کے ساتھ تہران سفارتی سطح پر مذاکرات کی بحالی کے لیے بھی کوششیں کر رہا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو تہران میں غیر ملکی سفیروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران پر دوبارہ حملے کی صورت میں جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا، تاہم ان کے مطابق تنازع کا خاتمہ صرف ’’انصاف اور برابری پر مبنی مذاکرات‘‘ سے ممکن ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کی شرائط پوری کی جائیں اور ’’دشمنانہ اقدامات‘‘ ختم کردیے جائیں تو ایران آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر مکمل طور پر دوبارہ کھول سکتا ہے۔
ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ واشنگٹن نے حال ہی میں ایک ثالث کے ذریعے تجاویز بھیجی ہیں، تاہم ایران ’’یک طرفہ مطالبات‘‘ قبول نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے عائد سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی، جن کا تعلق اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمت سے ہے۔
ادھر ایران کے وزیر تیل محسن پاک نژاد نے پیر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، تاہم فوری طور پر استعفے کی وجہ سامنے نہیں آئی۔ ان کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی پابندیوں میں اضافے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر مزید پابندیوں کے باعث تہران کو بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔