سندھ نے پاکستان کی خاطر اپنی ملکی حیثیت قربان کی، پانچ سو سال تک تقسیم نہیں ہو سکتا: سینیٹ میں بحث

اسلام آباد(ویب ڈیسک) سندھ اسمبلی کی جانب سے حالیہ دنوں سندھ کی وحدت اور صوبے کی تقسیم سے متعلق مبینہ سازشوں کے خلاف منظور کی گئی قرارداد کا معاملہ سینیٹ میں بھی زیر بحث آ گیا، جہاں مختلف جماعتوں کے سینیٹرز نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کی سازش کرنے والے عناصر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا.

سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ سندھ ایک تاریخی وحدت ہے، 1843 میں برطانوی قبضے کے وقت سندھ ایک الگ آزاد ملک کی حیثیت رکھتی تھی اور بعد ازاں پاکستان کیلئے اپنی ملکی حیثیت قربان کی۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکہ دریافت بھی نہیں ہوا تھا سندھ اس وقت بھی سپرپاور کی حیثیت رکھتا تھا. ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی آئینی طور پر صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دے سکتی اور نہ ہی آئندہ پانچ سو برس میں ایسی کوئی قرارداد منظور کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ کے گورنر نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صوبے کی وحدت کے خلاف گورنر ہاؤس کو استعمال کیا۔ گورنر اور دو وفاقی وزراء نے سندھ کی وحدت کے خلاف بیانات دے کر سندھ کے کروڑوں لوگوں کو جذبات کو ٹھیس پہنچایا ہے.

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے واضح طور پر سندھ کی وحدت کے حق میں قرارداد منظور کی ہے اور سندھ کو تقسیم کرنے کی بات کرنا دراصل پاکستان کو تقسیم کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نسلی بنیادوں پر تقسیم کی سوچ کو مسترد کیا جانا چاہیے کیونکہ سندھ ناقابل تقسیم ہے۔

سینیٹر سید وقار مہدی نے گورنر ہاؤس کراچی میں ہونے والی تعلیمی کانفرنس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہاں تعلیم پر سنجیدہ گفتگو نہیں کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض جماعتیں ہر حکومت کا حصہ رہی ہیں، لیکن کراچی کے مسائل حل نہیں کیے گئے۔

دوسری جانب ایم کیو ایم کی سینیٹر خالدیہ عتیق نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے سندھ کی تقسیم کی بات نہیں کی، بلکہ سندھ اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد کو آئین کے منافی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئین انتظامی یونٹس بنانے کی اجازت دیتا ہے اور صوبائی قرارداد کو مسترد کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے سرکاری اداروں میں ملازمتوں کی تقسیم پر بھی سوالات اٹھائے۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عوام کو مہنگائی، آٹا، دال اور دیگر بنیادی مسائل سے ہٹا کر صوبوں کی تقسیم جیسے معاملات میں الجھایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول نئے صوبوں کے قیام یا نہ قیام کی بحث اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یا تو انتخابات قریب ہیں یا کوئی آئینی ترمیم زیر غور ہے، اسی لیے سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات دے رہی ہیں۔

یاد رہے کہ سندھ اسمبلی نے گزشتہ دنوں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں سندھ کی جغرافیائی اور انتظامی وحدت کے تحفظ کا اعادہ کرتے ہوئے صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی اقدام یا تجویز کو مسترد کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں