کراچی سندھ کا ’ناقابلِ تقسیم حصہ ہے، سندھ توڑنے کی سازشیں کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں: سندھ اسمبلی میں قرارداد پاس

کراچی(ویب ڈیسک)سندھ اسمبلی نے ہفتے کو ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے کراچی کو سندھ کا ’’ناقابلِ تقسیم اور لازمی حصہ‘‘ قرار دیا ہے اور شہر کو الگ انتظامی حیثیت دینے یا صوبے کی تقسیم سے متعلق کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ قرارداد وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ ایوان سندھ کی تقسیم یا کراچی پر مشتمل الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی ’’سازش کی دوٹوک مذمت اور مکمل مخالفت‘‘ کرتا ہے۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ ’’کراچی ہمیشہ سندھ کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ رہے گا۔‘‘

پس منظر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متحدہ قومی موومنٹ – پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی جانب سے حالیہ مہینوں میں وفاق سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

قرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔ اس میں کہا گیا کہ سندھ کی وحدت، جغرافیائی سالمیت اور تاریخی شناخت ایک امانت ہیں جن کا دفاع آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے کیا جائے گا۔

قرارداد میں آئین 1973 کے آرٹیکل 239 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ متعلقہ صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی منظوری کے بغیر صوبائی حدود میں کوئی تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔ متن میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ سندھ وہ پہلا صوبہ تھا جس نے قیامِ پاکستان کے حق میں قرارداد منظور کی تھی، جو وفاقیت اور قومی اتحاد سے اس کی تاریخی وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

ایوان میں حمایت اور اختلاف

ایوان میں جماعتِ اسلامی کے رکن محمد فاروق اور پاکستان تحریکِ انصاف کے اراکین شبیر قریشی اور سجاد سومرو نے قرارداد کی حمایت کی۔ تاہم متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے ارکان نے اپنی تقاریر میں اس کی حمایت نہیں کی اور اسے آئین سے متصادم قرار دیا۔

قرارداد کے مطابق کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ بنانے میں سندھ کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے مشترکہ کردار ادا کیا، جسے تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی علامت قرار دیا گیا۔

“پاکستان کے دشمن سندھ کو تقسیم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں “وزیرِاعلیٰ

قرارداد کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔

انہوں نے کراچی کو الگ صوبہ یا وفاقی علاقہ بنانے سے متعلق بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے دشمن عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو پاکستان پر یقین رکھتا ہے وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی نئے صوبے کے قیام کی صورت میں فیصلہ سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت ہی کرے گی۔ وزیرِاعلیٰ نے یاد دلایا کہ 2019 اور اس سے قبل 1994 میں بھی سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

مراد علی شاہ نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں کوئی ایسی شق دکھائی جائے جو آئین کے خلاف ہو، جبکہ انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مؤقف کو ’غیر مستقل‘ قرار دیا۔

ایوان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ سندھ اسمبلی جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی سالمیت اور وقار کے دفاع کے لیے متحد ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں