عالمی تیل بحران اور پاکستان: مہنگائی کا بڑھتا طوفان

ڈاکٹر احمد علی میمن
پاکستان آج توانائی کے بحران کے ایک سنگین مرحلے سے گزر رہا ہے جس نے عوام کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈالا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور ایران کے بحران نے عالمی تیل کی منڈی کو عدم استحکام کا شکار کر دیا ہے، جس کے اثرات فوری طور پر پاکستان پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرول کی قیمت تقریباً 458 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 520 روپے فی لیٹر تک پہنچ چکی ہے، اور اس مہنگائی نے عوام کی جیبوں پر بوجھ ڈالنے کے ساتھ ملکی معیشت میں بھی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

پاکستان روزانہ تقریباً 479,218 بیرل تیل استعمال کرتا ہے جبکہ ملک کی مجموعی پیداوار صرف 81,426 بیرل فی دن ہے، یعنی ہم اپنی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد حصہ درآمد کرتے ہیں۔ پاکستان کی درآمدی توانائی کا سب سے بڑا حصہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر سے آتا ہے، جہاں سے پٹرول اور ڈیزل کی براہِ راست فراہمی ممکن ہے۔ ایران سے سستا تیل بھی دستیاب ہے، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، بینکنگ مسائل اور تکنیکی حدود کی وجہ سے اس کا بڑا حصہ خریدنا ممکن نہیں۔ روس اور دیگر ممالک سے بھی کچھ خام تیل درآمد کیا جاتا ہے، مگر وہ بھی عالمی مارکیٹ کی قیمتوں اور پاکستان کی ریفائنریز کی مطابقت کے تابع ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے سامنے بے بس رہنا پڑتا ہے۔

پاکستان میں پٹرول کی روزانہ کھپت تقریباً 240.44 ہزار بیرل ہے جو گھریلو اور ذاتی ٹرانسپورٹ کی وجہ سے ہے، جبکہ ڈیزل اور حرارتی تیل کی روزانہ کھپت 183.10 ہزار بیرل ہے، جس میں کھیتی باڑی، ٹرانسپورٹ، لوڈشیڈنگ جنریٹرز اور صنعتی پیداوار شامل ہیں۔ یہ واضح کرتا ہے کہ ملک میں تیل کی کھپت بہت زیادہ ہے اور موجودہ عالمی بحران نے اس دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

عالمی تیل کی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کی سب سے بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران کے بحران اور جنگی حالات ہیں۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور ہرمز جیسی اہم تیل کی راہداریوں پر خطرات پیدا ہونے سے عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اس صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا، جس کا سب سے برا اثر وہ ممالک دیکھ رہے ہیں جو اپنی توانائی درآمد کرتے ہیں، جیسے پاکستان۔

جب عالمی سپلائی میں رکاوٹ آتی ہے تو قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور پاکستان جیسا ملک جو اپنی توانائی کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے، اس تبدیلی کے سامنے بے بس محسوس کرتا ہے۔ یوں تیل کی بڑھتی قیمتیں نہ صرف پبلک اور پرائیویٹ ٹرانسپورٹ بلکہ خوراک، صنعت اور روزمرہ زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوئی ہیں۔

عوام اکثر سوال کرتے ہیں کہ اگر ایران یا روس سے سستا تیل مل سکتا ہے تو پاکستان اسے کیوں نہیں خریدتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ معاملہ صرف قیمت کا نہیں بلکہ بین الاقوامی پابندیوں، مالی نظام، سیاسی تعلقات اور تکنیکی مسائل سے جڑا ہوا ہے۔ ایران پر مغربی طاقتوں کی پابندیاں، بینکنگ سسٹم کی محدودیت اور ادائیگی کے راستوں میں مشکلات کے سبب بڑے پیمانے پر تیل خریدنا ممکن نہیں۔

اس کے علاوہ پاکستان نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کے ساتھ طے شدہ معاہدے کیے ہوئے ہیں، جہاں سے قسطوں پر ادائیگی اور مالی تعاون ممکن ہے، جبکہ ایران کے ساتھ ایسا تعاون محدود ہے۔ موجودہ ریفائنریز ہر قسم کے خام تیل کی پروسیسنگ کے لیے موزوں نہیں ہیں، کیونکہ بعض اوقات ایران یا روس کے خام تیل میں کیمیائی ترکیب مختلف ہوتی ہے، جس کی پروسیسنگ کے لیے اضافی سرمایہ کاری یا تبدیلی درکار ہوتی ہے۔ یہ ایک مہنگا اور وقت طلب عمل ہے۔

اسی وجہ سے سستا تیل خریدنا صرف اقتصادی فیصلہ نہیں بلکہ مالی، تکنیکی اور سٹریٹجک عوامل سے جڑا ایک پیچیدہ مسئلہ ہے۔

تیل کی بڑھتی قیمتیں عوام کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے بس، ٹرین، رکشہ اور ٹیکسی کے سفر مہنگے ہو گئے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بھی بڑھ گئی ہیں کیونکہ ڈیزل مہنگا ہونے سے سامان کی لوڈنگ اور نقل و حمل کا خرچ بڑھ گیا ہے۔

صنعتی پیداوار پر بھی اثر پڑا ہے، جس کا آخری نتیجہ صارفین کے بجٹ پر پڑتا ہے۔ گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر کم آمدنی والے طبقات کے لیے روزمرہ کی ضروریات مہنگی ہو رہی ہیں اور قوت خرید کمزور ہو گئی ہے۔ یہ سب اثرات علیحدہ علیحدہ نہیں بلکہ مہنگائی کے ایک طوفان کے طور پر محسوس ہوتے ہیں۔

امریکہ دنیا کا سب سے بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، جس کی یومیہ پیداوار تقریباً 13.6 ملین بیرل ہے، جبکہ سعودی عرب اور روس بالترتیب 10.8 سے 11.2 ملین اور 10.11 سے 10.9 ملین بیرل یومیہ پیدا کرتے ہیں۔ ایران کی پیداوار عالمی منڈی کے لیے اہم ہے، مگر وہاں جاری بحران اور پابندیاں سپلائی کو محدود کر رہی ہیں۔

ہرمز کی بندش نے عالمی مارکیٹ میں بھونچال پیدا کیا اور قیمتوں میں 200 ڈالر فی بیرل تک اضافے کا خطرہ ظاہر کیا گیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے متبادل راستوں سے سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش کی اور انٹرنیشنل انرجی ایجنسی نے ذخائر جاری کر کے کمی کو جزوی طور پر پورا کیا، مگر عالمی بحران نے واضح کر دیا کہ پاکستان کو اپنی توانائی کی حکمت عملی میں فوری اور مؤثر تبدیلی کی ضرورت ہے۔

تاریخ کے سب سے بڑے تیل سپلائی بحران نے ایک ماہ کا سنگ میل عبور کر لیا ہے، جس سے عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ، ترقی کی پیش گوئیاں کم ہونا، اور ایشیا کے ممالک جیسے تھائی لینڈ سے پاکستان میں فیول کی قلت کے آثار سامنے آئے ہیں۔ بلوم برگ کے مطابق دنیا نے صورتحال کی سنگینی ابھی تک پوری طرح نہیں سمجھی۔

امریکی حکومتی عہدیداران اور وال اسٹریٹ کے تجزیہ کار اب اس امکان پر غور کر رہے ہیں کہ تیل کی قیمتیں غیر معمولی طور پر 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں، جو عالمی معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ کئی ماہرین نے 1970 کی دہائی کے تیل بحران کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ ہرمز کی بندش ایک بڑے عالمی بحران کا خطرہ پیدا کر رہی ہے۔

ایشیا میں فیول کی قلت مغرب کی جانب پھیلنے کا خدشہ ہے، اور یورپ کو اگلے ہفتوں میں ڈیزل کی کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز سے پیدا ہونے والا روزانہ 11 ملین بیرل کا سپلائی خلا برطانیہ، فرانس، جرمنی، اسپین اور اٹلی کی مشترکہ تیل کی کھپت سے بھی زیادہ ہے۔ کم ہوتی طلب، خاص طور پر ایشیا میں، اس خلا کو جزوی طور پر پورا کر رہی ہے۔

امریکی اور دیگر ممالک نے ریکارڈ اسٹاک آئل ریلیز کا اعلان کیا تاکہ قیمتوں میں استحکام آئے، جبکہ ایران نے چند غیر ملکی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی۔ لیکن یہ اقدامات محدود اثر رکھتے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے تیل کو پائپ لائن کے ذریعے متبادل راستوں سے نکالنا شروع کر دیا، جس سے سپلائی میں کمی کو کچھ حد تک پورا کیا گیا۔

موجودہ سطح پر تیل کی قیمتیں تقریباً 112 ڈالر فی بیرل ہیں، جو جنگ کے آغاز سے 55 فیصد زیادہ ہے، مگر 2008 کے ریکارڈ 147.50 ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ یورپی قدرتی گیس کی قیمتیں 70 فیصد بڑھ گئی ہیں، مگر 2022 کے بحران کی سطح تک نہیں پہنچیں۔ ایشیا میں طلب تقریباً 2 ملین بیرل فی دن کم ہو گئی ہے، خاص طور پر پیٹروکیمیکل سیکٹر میں، جبکہ پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی کمی بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان میں کرکٹ شائقین کو گھر سے میچ دیکھنے کی ہدایت دی گئی تاکہ ایندھن کی بچت ہو سکے۔

پاکستان میں توانائی کی حکمت عملی میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ صرف درآمدی تیل پر انحصار کم کرنا چاہیے اور سولر، ونڈ، نیوکلیئر اور مقامی وسائل جیسے گیس اور بایو فیول میں سرمایہ کاری بڑھانی چاہیے۔ ریفائنریز کو جدید بنایا جائے تاکہ مختلف قسم کے خام تیل کی پروسیسنگ ممکن ہو اور عالمی مارکیٹ سے لچک کے ساتھ فائدہ اٹھایا جا سکے۔

کم آمدنی والے طبقات کے لیے سبسڈی اور فوری ریلیف فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ مہنگائی کے اثرات کم ہوں۔ مقامی توانائی کی پیداوار میں اضافہ بھی لازم ہے تاکہ درآمدات پر انحصار کم ہو اور ملک زیادہ مستحکم اور خود کفیل بن سکے۔

ایران میں جنگ، عالمی تیل کی بڑھتی قیمتیں، درآمدی انحصار اور ریفائنری مسائل نے پاکستانی عوام کو ایک حقیقت کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ صرف آسان راستے تلاش کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ پائیدار توانائی کی حکمت عملی، متبادل ذرائع اور عوام دوست پالیسیاں ہی پاکستان کو مضبوط اور خود کفیل بنا سکتی ہیں۔

مستقبل میں یہ اقدامات نہ صرف موجودہ بحران سے نکالیں گے بلکہ آنے والی دہائیوں میں پاکستان کو توانائی کے میدان میں مستحکم اور خودمختار بنائیں گے۔

اپنا تبصرہ لکھیں