واشنگٹن/اسلام آباد: بحرالکاہل میں پیدا ہونے والا ایل نینو اس سال غیر معمولی شدت اختیار کر رہا ہے اور عالمی موسمیاتی نظام کو متاثر کرنے والے ایک انتہائی طاقتور واقعے کی شکل اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی نیشنل اوشیانک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (NOAA) کے مطابق ستمبر 2026 میں مشرقی استوائی بحرالکاہل کے سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے 3 ڈگری سیلسیس سے زیادہ بلند ہو چکا ہے۔ NOAA کی ستمبر کی پیش گوئی کے مطابق اکتوبر تا دسمبر 2026 کے دوران اس بات کا 75 فیصد امکان ہے کہ ایل نینو کی شدت 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے سابقہ واقعات سے زیادہ ہو جائے۔
NOAA نے یہ بھی کہا ہے کہ شمالی نصف کرے کے خزاں اور موسم سرما 2026-27 کے دوران انتہائی مضبوط ایل نینو برقرار رہنے کا امکان 90 فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کسی مخصوص ملک میں اس کے اثرات کی شدت صرف ایل نینو کی طاقت سے طے نہیں ہوتی۔
ایل نینو کیا ہے؟
ایل نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصے میں سمندری سطح کے پانی کے معمول سے زیادہ گرم ہونے کا قدرتی موسمیاتی مرحلہ ہے۔ اس کے نتیجے میں فضا کے بڑے پیمانے پر گردش کے نظام تبدیل ہوتے ہیں، جس سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع علاقوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور طوفانی سرگرمیوں میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
موجودہ واقعے کی خاص بات یہ ہے کہ بحرالکاہل میں سطح کے ساتھ ساتھ سمندر کی گہرائی میں بھی غیر معمولی گرم پانی موجود ہے۔ NOAA کے مطابق اگست میں زیرِسطح سمندری پانی کے بعض حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 10 ڈگری سیلسیس سے زیادہ بلند تھا۔
یہاں ایک اہم وضاحت ضروری ہے: روزانہ سمندری درجہ حرارت میں 3 ڈگری سے زیادہ کا انحراف اور Oceanic Niño Index (ONI) ایک ہی پیمانہ نہیں ہیں۔ NOAA روایتی طور پر تین ماہ کی اوسط استعمال کرتا ہے، جبکہ اب وہ Relative Oceanic Niño Index (RONI) کو بھی بنیادی پیمانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔
پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے؟
پاکستان کے لیے ایل نینو کا سب سے اہم ممکنہ اثر مون سون بارشوں میں کمی اور درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک میں لازماً خشک سالی ہی ہوگی۔
پاکستان اور مغربی جنوبی ایشیا پر ہونے والی تحقیق کے مطابق ایل نینو کے دوران اس خطے میں بارشوں کے ساتھ عموماً منفی تعلق دیکھا گیا ہے۔ ماضی میں 1997، 2002 اور 2004 جیسے ایل نینو برسوں میں پاکستان کے بعض علاقوں میں خشک سالی نمایاں رہی۔ تاہم سائنس دانوں نے یہ بھی پایا ہے کہ پاکستان میں ENSO اور مون سون کے درمیان تعلق اتنا مضبوط نہیں کہ صرف ایل نینو کی بنیاد پر پورے موسم کی بارش کا حتمی اندازہ لگایا جا سکے۔
ایک حالیہ پاکستانی مطالعے کے مطابق بالائی دریائے سندھ کے طاس میں ENSO اور خشک سالی کے درمیان نمایاں تعلق پایا گیا ہے، جبکہ مختلف برسوں میں ایل نینو اور لا نینا کے اثرات بارش، خشک دنوں اور شدید بارش کے واقعات پر مختلف انداز میں ظاہر ہوئے۔
1۔ مون سون کمزور پڑنے کا خطرہ
پاکستان میں سب سے اہم خدشہ یہ ہے کہ مضبوط ایل نینو جنوبی ایشیائی مون سون کی مجموعی سرگرمی کو کمزور کر سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں:
* پنجاب، خیبر پختونخوا اور شمالی علاقوں میں مون سون بارشیں معمول سے کم ہو سکتی ہیں؛
* فصلوں، خصوصاً بارانی زراعت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے؛
* دریاؤں اور ڈیموں میں پانی کی آمد متاثر ہو سکتی ہے؛
* ربیع کی فصلوں کے لیے دستیاب پانی پر بھی بالواسطہ اثر پڑ سکتا ہے۔
پاکستان میں ماضی کے مشاہدات بھی ایل نینو کے برسوں میں مون سون بارشوں میں کمی کے رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں، اگرچہ یہ تعلق ہر سال یکساں نہیں رہتا۔
2۔ گرمی کی شدت میں اضافہ
ایل نینو عالمی درجہ حرارت کو بھی اوپر لے جا سکتا ہے، کیونکہ گرم سمندر سے اضافی حرارت فضا میں منتقل ہوتی ہے۔
پاکستان پہلے ہی بلند درجہ حرارت اور ہیٹ ویوز کے خطرے سے دوچار ہے، اس لیے اگر ایل نینو کے ساتھ علاقائی موسمی حالات بھی گرم رہیں تو شہری علاقوں، زراعت، بجلی کی طلب اور انسانی صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
خاص طور پر موسمِ بہار اور موسمِ گرما میں طویل گرم دن اور پانی کی طلب میں اضافہ ایک اہم خطرہ بن سکتے ہیں۔
3۔ خشک سالی اور پانی کا دباؤ
اگر کم مون سون بارشیں مسلسل گرم موسم کے ساتھ مل جائیں تو پاکستان کے بعض حصوں میں زرعی اور موسمیاتی خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
تاہم پاکستان میں پانی کی صورتحال صرف مون سون پر منحصر نہیں۔ مغربی ہواؤں سے آنے والی سردیوں کی بارشیں، برف باری، ہمالیہ اور قراقرم کے برفانی ذخائر، مقامی موسمی نظام اور سمندری درجہ حرارت بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
اس لیے ایل نینو کو پاکستان میں پانی کی کمی کا واحد سبب سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
کیا ایل نینو پاکستان میں سیلاب بھی لا سکتا ہے؟
یہ سوال خاص طور پر اہم ہے کیونکہ بظاہر خشک سالی اور سیلاب ایک دوسرے کی ضد نظر آتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ ایل نینو کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں سیلاب نہیں آسکتا۔
پاکستان کے شدید بارش اور سیلاب کے واقعات متعدد عوامل کے باہمی تعامل سے پیدا ہوتے ہیں۔ 2026 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق پاکستان کے مشرقی دریائی بیسن میں شدید بارشوں کے واقعات کا تعلق نمی کے مختلف ذرائع، خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی ہواؤں، کم دباؤ کے نظام اور بالائی فضائی گردش جیسے عوامل سے ہے۔ اس تحقیق میں ENSO کی غیر جانبدار حالت اور دیگر علاقائی عوامل کا بھی اہم کردار سامنے آیا۔
اسی لیے ایک انتہائی مضبوط ایل نینو کے باوجود پاکستان کے کسی مخصوص علاقے میں کسی خاص دن یا ہفتے کے دوران شدید بارش یا سیلاب کو خارج نہیں کیا جا سکتا۔
دوسرے لفظوں میں، مجموعی مون سون کمزور ہونے کے ساتھ مقامی یا مختصر مدت کے انتہائی شدید بارش کے واقعات پھر بھی ممکن ہیں۔
جنوبی ایشیا پر وسیع اثرات
پاکستان سے زیادہ واضح اور وسیع اثرات جنوبی ایشیا کے دوسرے حصوں، خصوصاً بھارت اور بنگلہ دیش کے مون سون نظام میں دیکھے جا سکتے ہیں۔
سائنسی مطالعات کے مطابق ایل نینو عموماً جنوبی ایشیائی موسمِ گرما کے مون سون کو کمزور کرنے سے وابستہ ہے، کیونکہ بحرالکاہل میں درجہ حرارت کی تبدیلی Walker circulation سمیت بڑے فضائی گردش کے نظاموں کو متاثر کرتی ہے۔
اس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں:
کم بارش → خشک سالی → فصلوں کو نقصان → پانی کی کمی → خوراک کی قیمتوں پر دباؤ
کا سلسلہ پیدا ہو سکتا ہے۔
بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال سمیت خطے کے وہ علاقے جہاں زراعت بڑی حد تک بارش یا دریائی پانی پر منحصر ہے، خاص طور پر حساس رہیں گے۔
لیکن ایک اہم احتیاط
ماہرین کے مطابق مضبوط ایل نینو کا مطلب لازماً شدید خشک سالی نہیں۔
پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن ایسی ہے کہ ملک جنوبی ایشیائی مون سون اور مغربی ایشیائی خشک موسمی نظام کے درمیان واقع ہے۔ یہاں بارش پر بحیرہ عرب، خلیج بنگال، مغربی ہواؤں، Indian Ocean Dipole (IOD)، ہمالیائی برف باری اور متعدد دوسرے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔
ایک حالیہ تحقیق میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان میں ENSO اور انتہائی مون سون بارشوں کا تعلق جنوبی ایشیا کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں نسبتاً کمزور ہے۔ ماضی میں بعض مضبوط ایل نینو واقعات کے باوجود پاکستان میں معمول کی بارش بھی ریکارڈ ہوئی۔
لہٰذا موجودہ ایل نینو کو پاکستان میں خشک سالی یا سیلاب کی یقینی پیش گوئی سمجھنا سائنسی طور پر درست نہیں ہوگا۔
پاکستان کو کن شعبوں پر نظر رکھنا ہوگی؟
موجودہ صورتحال میں پاکستان کے لیے چند شعبے خصوصی نگرانی کے متقاضی ہیں:
زراعت: مون سون بارشوں میں کمی کی صورت میں بارانی علاقوں اور پانی زیادہ استعمال کرنے والی فصلوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پانی: دریائے سندھ کے نظام، ڈیموں، آبپاشی کے ذخائر اور زیرِ زمین پانی کی صورتحال اہم ہوگی۔
درجہ حرارت: زیادہ گرم موسم کے باعث بجلی کی طلب، شہری ہیٹ ویو اور صحت کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
سیلاب: مجموعی بارش کم ہونے کے باوجود مختصر مدت کے شدید بارش کے واقعات کا خطرہ ختم نہیں ہوتا۔
خوراک: اگر جنوبی ایشیا کے بڑے زرعی علاقوں میں پیداوار متاثر ہوئی تو چاول، گندم اور دیگر اجناس کی علاقائی قیمتوں پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کی نظر اب کس چیز پر ہے؟
NOAA کے مطابق موجودہ ایل نینو 2026 کے آخر تک مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اکتوبر تا دسمبر کی سہ ماہی کے لیے NOAA نے ایک تاریخی شدت کے واقعے کا 75 فیصد امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ نومبر تا جنوری کے دوران بھی شدت بلند رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل سوال اب صرف یہ نہیں کہ ایل نینو کتنا طاقتور ہوگا، بلکہ یہ بھی ہے کہ اس کی حرارت بحرالکاہل کے کس حصے میں مرکوز رہتی ہے، Indian Ocean Dipole کس مرحلے میں جاتا ہے، مغربی ہواؤں کا رویہ کیا رہتا ہے اور جنوبی ایشیائی مون سون کے دوران علاقائی فضائی گردش کس طرح تبدیل ہوتی ہے۔