اسلام آباد(ویب ڈیسک) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے خبردار کیا ہے کہ اگر صوبوں کے آئینی حقوق اور وسائل پر ان کے عوام کے اختیار کو تسلیم نہ کیا گیا تو مستقبل میں سندھ بھی ایسے اقدامات کی زد میں آ سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلا گورنر راج سندھ میں پانی، معدنیات اور نہروں پر قبضے کے لیے لگایا جائے گا اور اس وقت لوگوں کو احساس ہوگا کہ انہوں نے کیا غلطی کی تھی۔
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ سندھ کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار دیا جائے اور بلوچستان، خیبر پختونخوا، پنجاب اور سرائیکی علاقوں سمیت تمام اکائیوں کے حقوق تسلیم کیے جائیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور پارلیمنٹ کو حقیقی معنوں میں طاقت کا سرچشمہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے بھائیوں پر افسوس ہوتا ہے کہ وہ بھی ایسے اقدامات میں شریک ہوئے جن کے نتیجے میں صوبوں کے حقوق اور جمہوری اختیار متاثر ہوتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر قوموں کی زمینوں، پانی اور معدنی وسائل پر قبضہ کیا جائے گا تو اس کے نتیجے میں مزاحمت اور بغاوت کے خدشات پیدا ہوں گے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ چولستان میں سرائیکی علاقوں کی زمینیں مبینہ طور پر 100 روپے فی ایکڑ کے حساب سے الاٹ کی گئی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب قوموں کی زمینوں اور معدنی وسائل پر اس طرح اختیار حاصل کیا جائے گا تو عوام اپنے حقوق کے لیے آواز کیوں نہیں اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سرائیکی علاقوں کے عوام اپنے وسائل پر اختیار چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک کو بچانے کا راستہ آئین کی بالادستی، جمہوری نظام اور پارلیمنٹ کی خودمختاری سے ہو کر گزرتا ہے۔
صوبوں کے وسائل پر عوام کا اختیار تسلیم کیا جائے
اپوزیشن لیڈر نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبائی خودمختاری کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی سمیت تمام جماعتوں کو اس بات پر اتفاق کرنا چاہیے کہ ملک میں پارلیمنٹ بالادست ہو اور ہر صوبے کے عوام کو اپنے وسائل پر اختیار حاصل ہو۔
محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے، جہاں کوئی فاتح اور مفتوح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھی، بلوچ، پشتون، سرائیکی اور پنجابی عوام کے حقوق کا تحفظ اور ان کے ساتھ انصاف ہی وفاق کو مضبوط بنا سکتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ عوام کے حقوق دبانے اور طاقت کے استعمال کی پالیسی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق ریاست کا کام عوام کو تحفظ دینا اور ان کے ساتھ شفقت کا برتاؤ کرنا ہے، نہ کہ اپنے ہی شہریوں کے خلاف طاقت استعمال کرنا۔
خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی مخالفت
محمود خان اچکزئی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے خلاف اقدامات پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت کو ہٹانے یا عوامی مینڈیٹ کو نظرانداز کرنے کے بجائے سیاسی مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہییں۔
انہوں نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے حوالے سے کہا کہ صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور طاقت کے استعمال کے بجائے سیاسی مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے۔
انہوں نے ماضی میں مشرقی پاکستان کے حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو تسلیم نہ کرنے اور سیاسی اختلافات کو طاقت سے دبانے کے نتائج ملک کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ
اپوزیشن لیڈر نے خارجہ پالیسی اور علاقائی صورتحال پر بھی پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی اور اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کا حل آئین، پارلیمنٹ اور جمہوری نظام میں ہے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور مقتدر حلقوں پر زور دیا کہ وہ عوام کے حقوق کا احترام کریں اور ملک کو مزید تقسیم سے بچانے کے لیے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔