کراچی(ويب ڈیسک) کراچی میں جساف کی جانب سے چار مارچ کی طلبہ جدوجہد کے سلسلے میں کراچی پریس کلب کے باہر منعقدہ ایک پروگرام پر ریاستی کارروائی کے بعد متعدد قومپرست رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جس پر مختلف قومپرست جماعتوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
قومپرست جماعت سندھین نیشنل کانگریس کے مرکزی آرگنائيزر سارنگ جویو کے مطابق اطلاعات یہ پروگرام کراچی پریس کلب میں منعقد کیا گیا تھا جہاں سے دانشور سائیں دلشاد بھٹو، لطیف بگھیو، وجاہت جاگیرانی، عمار دایو، حسیب میمن، حفیظ بلوچ اور دیگر کئی کارکنوں کو گرفتار کر کے پریڈی تھانے منتقل کیا گیا۔
قومپرست جماعت سندھ نیشنل کانگریس سمیت مختلف تنظیموں نے ان گرفتاریوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی سرگرمیوں پر قدغن جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ رہنماؤں نے خبردار کیا کہ اگر گرفتار افراد کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا تو سخت احتجاجی لائحہ عمل اختیار کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد کراچی میں واقع امریکی سفارتخانہ پر مظاہرین کی جانب سے حملے اور ہنگامہ آرائی کے واقعے کے بعد شہر میں دفعہ 144 نافذ کر دی گئی تھی، جس کے تحت جلسے جلوسوں اور عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔
حکام کی جانب سے تاحال ان گرفتاریوں اور مبینہ لاپتا کیے جانے والے افراد کے بارے میں باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔