سکھر (ویب ڈیسک): آبپاشی کے صوبائی وزیر جام خان شورو نے سکھر بیراج پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیراج کے دروازوں کی بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے اور جون 2026 تک 44 دروازے مکمل ہونے کی امید ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ سال نہروں کے دروازوں کی بحالی کا کام بھی شروع کیا جائے گا، جبکہ انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی جانب سے پیشگی بتایا گیا ہے کہ اس سیزن کے دوران 27 فیصد پانی کی قلت کا امکان ہے۔
صوبائی وزیر کے مطابق سندھ کے آبادگاروں کے لیے یہ خوشخبری ہے کہ سکھر بیراج کی بحالی کا اہم منصوبہ مقررہ وقت میں مکمل ہونے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلی بار ایک چینی کمپنی نے جدید نوعیت کا کوفر ڈیم نصب کیا، جس کے ٹوٹنے سے کچھ فنی مسائل پیدا ہوئے، تاہم کمپنی ان مسائل کو حل کرنے میں مصروف ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک عالمی چیلنج ہے، جس کا بڑا اثر پاکستان اور خصوصاً سندھ پر پڑ رہا ہے۔
صوبائی حکومت موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے 21 لاکھ گھر تعمیر کرنے کے منصوبے پر بھی کام کر رہی ہے۔