ڈاکٹر احمد علی میمن
ہر قوم کی تاریخ میں کچھ ایسے افراد جنم لیتے ہیں جو محض سیاست نہیں کرتے بلکہ اپنی قوم کو اپنے وجود پر غور کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ سندھ کی فکری اور سیاسی تاریخ میں غلام مرتضیٰ سید ایک ایسا ہی اہم نام ہیں۔ انہیں صرف ایک قوم پرست سیاست دان کے طور پر یاد کرنا ان کی فکری حیثیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی، کیونکہ جی۔ ایم۔ سید دراصل سندھی شعور کا ایک زندہ سوال تھے۔
جی۔ ایم۔ سید ایسے وقت میں سیاسی شعور کے ساتھ سامنے آئے جب سندھ سیاسی، معاشی اور ثقافتی طور پر مرکزیت کے دباؤ کا شکار ہو رہا تھا۔ صدیوں پرانی تہذیب اور تاریخ رکھنے والی یہ دھرتی آہستہ آہستہ فیصلہ سازی کے عمل سے باہر دھکیلی جا رہی تھی۔ سید سمجھتے تھے کہ سیاسی محرومی ہمیشہ طاقت کے ذریعے نہیں آتی بلکہ اکثر اس کا آغاز ثقافت کو فراموش کرنے سے ہوتا ہے۔ اسی لیے ان کی جدوجہد کا بنیادی محور سندھ کی تاریخی شناخت اور اجتماعی وقار تھا۔
جی۔ ایم۔ سید اس بات پر زور دیتے تھے کہ ثقافت محض لوک گیتوں یا میلوں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک سیاسی طاقت بھی ہے۔ زبان، تاریخ اور اجتماعی یادداشت قوموں کی بقا کے بنیادی ستون ہوتے ہیں۔
وہ سمجھتے تھے کہ جو معاشرہ اپنے ماضی سے کٹ جائے وہ نہ حال کو سمجھ سکتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا تعین کر سکتا ہے۔ اپنی تحریروں کے ذریعے انہوں نے سندھ کو ایک کنارے لگا ہوا علاقہ نہیں بلکہ ایک مکمل تاریخی قوم کے طور پر پیش کیا۔
ان کا سیاسی سفر خود ان کی فکری ارتقا کی عکاسی کرتا ہے۔ ابتدا میں مرکزی سیاست کا حصہ ہونے کے باوجود وہ آہستہ آہستہ ایسے نظام سے مایوس ہو گئے جو خودمختار سندھ اور سندھی ثقافت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ سندھی قوم پرستی کی طرف ان کا جھکاؤ کسی جذباتی فیصلے کے بجائے برسوں کے مشاہدے، تجربے اور فکر کا نتیجہ تھا۔ ان کے خیالات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن ان کے فکری تسلسل کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
جی ایم سید کا ایک اہم کردار یہ بھی تھا کہ انہوں نے ثقافتی شناخت کو سیاسی شعور میں تبدیل کیا۔ انہوں نے سندھ کے لوگوں کو اپنی تاریخ دوبارہ پڑھنے، فراموش شدہ کرداروں کو پہچاننے اور اپنی زبان اور ادب پر فخر کرنے کا حوصلہ دیا۔ انہوں نے اس تصور کو چیلنج کیا کہ قومی وحدت کا مطلب لازمی طور پر ثقافتی یکسانیت ہے۔ ان کے نزدیک ایسا اتحاد جو خاموشی اور دباؤ پر قائم ہو، نہ پائیدار ہوتا ہے اور نہ ہی منصفانہ۔
انہوں نے بارہا اس امر کی نشاندہی کی کہ ثقافت کو غیر سیاسی قرار دینا سب سے خطرناک پالیسی ہے۔ زبان کو نظرانداز کرنا، تاریخ کو مسخ کرنا اور مقامی شعور کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ریاستی کمزوری کو جنم دیتا ہے۔ جی۔ ایم۔ سید کا خیال تھا کہ جب ریاست اپنے شہریوں کی شناخت کو تسلیم نہیں کرتی تو شہریوں کو سوال اٹھانے کا اخلاقی حق حاصل ہو جاتا ہے۔
آج کے دور میں جی۔ ایم۔ سید کی اہمیت ان کے نعروں کو دہرانے میں نہیں بلکہ ان سوالات کو سمجھنے میں ہے جو انہوں نے اٹھائے۔ وفاقیت، صوبائی حقوق، زبان اور شناخت سے متعلق مباحث آج بھی زندہ ہیں۔ جی۔ ایم۔ سید نے سندھ کو یہ سبق دیا کہ عزت کے بغیر اقتدار بے معنی ہے، اور شناخت کے بغیر سیاست محض اعداد و شمار کا کھیل بن جاتی ہے۔
جی۔ ایم۔ سید: وفاق اور انکار کا حق
سندھ کا مسئلہ صرف معاشی یا انتظامی نہیں بلکہ بنیادی طور پر شناخت، اختیار اور فیصلے کے حق سے جڑا ہوا ہے۔ ان سوالات کو کھلے لفظوں میں بیان کرنے والی شخصیات میں غلام مرتضیٰ سید نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ جی۔ ایم۔ سید کو نظرانداز کرنا دراصل ان سوالات سے منہ موڑنے کے مترادف ہے جو آج بھی سندھ کے سیاسی وجود کو درپیش ہیں۔
جی۔ ایم۔ سید نے ایسے سیاسی ڈھانچے میں بات کرنے کی جرات کی جہاں اختلاف کو غداری اور شناخت کی بات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ مرکزی پالیسیوں کے تحت سندھ کو محض وسائل کا ذریعہ سمجھا گیا جبکہ اس کی تاریخی، لسانی اور ثقافتی حیثیت کو دانستہ طور پر ثانوی بنا دیا گیا۔ ایسے پس منظر میں سید نے واضح موقف اختیار کیا کہ حقیقی وفاقیت کے بغیر ریاستی ڈھانچہ توازن کھو بیٹھتا ہے۔
جی۔ ایم۔ سید کا فکر اس اصول پر مبنی تھا کہ وفاق زبردستی سے نہیں بلکہ رضاکارانہ شمولیت سے مضبوط ہوتا ہے۔ جب صوبوں سے ان کی زبان، تاریخ اور وسائل پر اختیار چھین لیا جائے تو وحدت محض ایک نعرہ بن کر رہ جاتی ہے۔ سید نے ایسی وفاقیت کو قبول کرنے سے انکار کیا جو صوبوں کو برابری کے بجائے تابع بنا دے۔
یقیناً جی۔ ایم۔ سید کے خیالات ریاستی بیانیے سے متصادم تھے۔ ان کے الگ قومی وجود کے تصور کو خطرناک اور غیر عملی قرار دیا گیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ مسئلہ سوچ میں تھا یا اس نظام میں جو مختلف آوازیں سننے کے لیے تیار نہیں تھا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ سیاسی مسائل بندوق سے نہیں بلکہ مکالمے سے حل ہوتے ہیں—اور سید کے خیالات کو کبھی سنجیدہ مکالمے کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا۔
آج جب وفاق وسائل کی تقسیم، صوبائی خودمختاری اور لسانی حقوق جیسے بحرانوں سے دوچار ہے تو جی۔ ایم۔ سید کا فکر ایک بار پھر غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ان کی ہر تجویز کو من و عن قبول کر لیا جائے بلکہ یہ ہے کہ ان کے اٹھائے ہوئے سوالات سے فرار اختیار نہ کیا جائے۔
جی۔ ایم۔ سید نے سندھ کو بغاوت نہیں بلکہ انکار کا حق یاد دلایا-وہ انکار جو وقار کے ساتھ جینے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ ریاستیں تب مضبوط ہوتی ہیں جب وہ اختلاف کو برداشت کرنا سیکھتی ہیں، نہ کہ ہر سوال کو دبانے کی کوشش کرتی ہیں۔
سندھ آج بھی وہی سوال پوچھ رہا ہے: کیا وفاق برابری پر قائم ہوگا یا اطاعت پر؟ جی۔ ایم۔ سید کا ورثہ اسی سوال میں زندہ ہے، اور یہ سوال اب تک بے جواب ہے۔
