ڈاکٹر اشوتھامہ
17 جنوری کی شام، سیہون سے حیدرآباد کے ایک ہی سفر کے دوران میں نے سندھ کے دو متضاد چہرے دیکھے-یہ وہ دو چہرے ہیں جو دراصل سندھ نہیں، بلکہ ریاستی طاقت اور قومی شعور کے آمنے سامنے کھڑے کردار ہیں۔ ایک چہرہ خوف، استحصال، پولیس گردی اور انتظامی جبر کا؛ اور دوسرا چہرہ امید، مزاحمت، شعور اور سائیں جی ایم سید کے فکر سے جڑی قومی خودمختاری کا.
سیہون سے گاجی شاہ کے میلے کے لیے نکلنے والے عقیدت مندوں، تماشائیوں اور محنت کش میلہ کمانے والوں کے قافلے-اور ان کے سامنے پولیس کی رکاوٹیں، ناکے، پیش قدمیاں، گاڑیوں کو روک کر بھتہ خوری۔ یہ کوئی انفرادی بدعنوانی نہیں؛ یہ ایک ساختیاتی گٹھ جوڑ ہے، جہاں پولیس اور ٹرانسپورٹر مل کر عوام کو لوٹتے ہیں۔ بھتہ پولیس لیتی ہے، اور اس کا بوجھ ٹرانسپورٹر دوگنا، تگنا کر کے عوام پر ڈال دیتے ہیں۔
نتیجہ؟ لوگ جانوروں کی طرح گاڑیوں میں ٹھونسے جاتے ہیں، راستے بند، عزتیں پامال؛ اور اسی دوران حکومتی اہلکاروں اور وڈیروں کے طویل پروٹوکول-جن کے لیے راستے صاف، اور عوام کے لیے صرف ذلت اور اذیت۔
یہ محض انتظامی ناکامی نہیں؛ یہ ریاستی ترجیحات کا اعلان ہے-جہاں اقتدار کو نقل و حرکت کی آزادی، اور عوام کو صبر کی زنجیر تھما دی جاتی ہے۔
اسی سفر کے دوران ایک اور منظر بھی سامنے آیا-سن کی جانب جانے والے قومی کارکنوں کے قافلے، سائیں جی ایم سید کی سالگرہ کے لیے۔ نوجوان، مرد، عورتیں، بچے-سب کے ہاتھوں میں سرخ جھنڈے، زبانوں پر نعروں کی للکار۔ اور ان کے سامنے: پولیس کے گھیرے، ناکے، ڈائیورژن، روڈ بلاک۔
یہاں پولیس کسی جرم کو نہیں، بلکہ ایک فکر کو روکنے کے لیے کھڑی تھی۔
وین میں بیٹھے اجنبی لوگ پوچھنے لگے:
“کیا ڈاکوؤں کے خلاف کوئی آپریشن ہے؟ کیا کوئی حملہ ہوا ہے؟”
یہ سوال خود ریاستی نفسیات کا عکس تھا-جہاں عوام کے لیے ہر پولیس حرکت خوف سے جڑی ہوتی ہے۔
ڈرائیور نے بتایا: سائیں کی سالگرہ کے لیے بُک کی گئی وینوں کے میلے کے بجائے، جیسے ہی سن روانگی کا پتا چلا، پولیس تین وینیں مسافروں سمیت تھانے لے گئی۔ سیہون کے ہر اسٹاپ پر یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی بڑا سکیورٹی آپریشن چل رہا ہو-مگر نہ دہشت گردوں کے خلاف، نہ جرائم کے خلاف؛ صرف شعور کے اجتماع کے خلاف۔
سن کے قریب پہنچتے ہی ہماری وین بھی روک لی گئی۔ سخت پوچھ گچھ۔ سب نے کہا: “ہم حیدرآباد کے ہیں۔” مگر اس کے باوجود پولیس نے سیدھے راستے کے بجائے زبردستی چار پانچ کلومیٹر لمبے متبادل راستے سے بھیج دیا-گویا اعلان تھا کہ “ہم تمہاری منزل بھی طے کریں گے۔”
اس موڑ پر وین سے آدھے سے زیادہ سید کے متوالے اترے اور پیدل سن کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ عمل محض جذباتی ضد نہیں تھا؛ یہ سرکاری حکم کی نافرمانی تھی-خاموش، مگر باشعور۔
میرے برابر بیٹھے دو نوجوانوں سے میں نے پوچھا:
“کیا پولیس انہیں آگے جانے دے گی؟”
جواب آج بھی کانوں میں گونجتا ہے:
“یہ پولیس ہے-ان کے باپ بھی ہمیں سن جانے سے نہیں روک سکتے!”
اس ایک جملے میں محض جذبہ نہیں، بلکہ ایک سیاسی سچ پوشیدہ تھا: جہاں قومی ارادہ شعور میں بدل جائے، وہاں ریاستی طاقت اپنی حدیں پہچاننے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
ہر طرف پولیس تھی-سڑکوں پر، راستوں پر، حتیٰ کہ پہاڑی ٹیلوں پر بھی سیاہ ٹوپیاں۔ یہ سکیورٹی نہیں تھی؛ یہ خوف کی نمائش تھی۔
میں سن میں اتر نہ سکا۔ یہ گناہ ساتھ لے کر حیدرآباد پہنچا، مگر پھر موبائل اسکرین پر سائیں کی سالگرہ کے ہر ہجوم، ہر ریلی، ہر پنڈال میں خود کو محسوس کیا۔ ذیابیطس کا مریض ہونے کے باوجود، آج بھی سائیں کی سالگرہ کے کیک کی مٹھاس کا ذائقہ محسوس کرتا ہوں-کیونکہ وہ مٹھاس صرف چینی کی نہیں، بلکہ احساسِ وابستگی کی تھی۔
سائیں جی ایم سید کوئی فرد نہیں، بلکہ سندھ کے تاریخی شعور، قومی وقار اور خودمختاری کی علامت ہیں۔ اور یہ پولیس گردی؟ یہ سرکاری خوف؟ یہ عوام سے دشمنی؟
یہ سب دھرتی کے دل پر لگے زخم ہیں۔
پولیس گردی دراصل اس نظام کے فکری دیوالیہ پن کا اعلان ہے، جو قوموں کو طاقت کے زور پر تابع رکھنا چاہتا ہے؛ جبکہ سائیں جی ایم سید نے سکھایا کہ شعور سے جنم لینے والی خودارادیت کی تحریک کو نہ لاٹھی سے مٹایا جا سکتا ہے، نہ بندوق سے-کیونکہ قومیں آخرکار خود ہی اپنے حقوق کی طرف لوٹتی ہیں۔
ناکوں، گرفتاریوں اور ڈائیورژن ریاستی انتظامی طاقت کا مظاہرہ نہیں، بلکہ قوم اور ریاست کے درمیان بڑھتے ہوئے تضاد کا ثبوت ہیں۔ جہاں قومی ارادہ تاریخی شعور میں ڈھل جائے، وہاں پولیس گردی محض وقتی رکاوٹ بن جاتی ہے-حل کبھی نہیں بنتی۔
پولیس دہشت گردی طاقت نہیں، بلکہ خوف کا اعتراف ہے؛ اور خوف میں مبتلا استحصالی طاقتیں ہمیشہ شعور کے ساتھ ابھرتی قوموں سے ہار جاتی ہیں۔