برطانوی جریدے دی اکنامسٹ نے ایران کے ساتھ اسرائیل_امریکہ مشترکہ جنگ پر اپنی ایک تجزیاتی رپورٹ میں لکھا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو طویل عرصے سے امریکی صدور کو ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور موجودہ جنگ کو ان کی دیرینہ حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اکنامسٹ کے مطابق نیتن یاہو اپنی سیاسی زندگی کے دوران بارہا واشنگٹن کو یہ باور کرانے کی کوشش کرتے رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو طاقت کے ذریعے روکنا ضروری ہے۔ جریدے کے مطابق 2013 میں اسرائیل کے دورے کے دوران امریکی صدر باراک اوباما سے ملاقات میں بھی نیتن یاہو نے ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم اس وقت اوباما نے اس تجویز کو قبول نہیں کیا۔
بعد ازاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیتن یاہو کے مطالبے پر 2018 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے امریکہ کو الگ کر لیا، تاہم 2019 میں ایران پر ممکنہ امریکی حملہ آخری لمحے میں روک دیا گیا تھا۔
جریدے کے مطابق اب صورتحال بدل چکی ہے اور موجودہ جنگ میں امریکہ اور اسرائیل ابتدا ہی سے ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت کارروائی کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی دفاعی پالیسی کے مطابق اگر کسی دشمن کے پاس مستقبل میں حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو تو اس کے خلاف پیشگی کارروائی جائز سمجھی جا سکتی ہے۔ اسی نظریے کے تحت اسرائیل نے 1981 میں عراق اور 2007 میں شام کے جوہری ری ایکٹروں پر بھی حملے کیے تھے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے اچانک حملے کے بعد اسرائیل کی سکیورٹی حکمت عملی مزید سخت ہو گئی ہے اور اب ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک افسر کے مطابق ایران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ اسرائیل کو ایک ایسے خطرے کے خلاف کارروائی کا موقع ملا جسے وہ اپنی بقا کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
ادھر امریکی قیادت اس کارروائی کو دفاعی اور پیشگی اقدام قرار دے رہی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ امریکہ نے اس لیے پیشگی کارروائی کی کیونکہ خدشہ تھا کہ اسرائیلی حملے کے بعد ایران امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیل نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو مزید کمزور کرنے کے لیے ایک نئی فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کی تھی جس پر امریکی محکمہ دفاع کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔ بعد ازاں خطے میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا گیا اور میزائل دفاعی نظام تعینات کیے گئے تاکہ اسرائیل کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔
جریدے کے مطابق ایک مرحلے پر نیتن یاہو کو خدشہ تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ سفارتی معاہدہ کر سکتا ہے جس میں ایران کے میزائل پروگرام کا مسئلہ شامل نہ ہو۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے انہوں نے فروری میں واشنگٹن جا کر امریکی صدر سے ملاقات کی اور ایران کے خلاف فوجی آپشن اختیار کرنے پر زور دیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے اندر اس جنگ کو خاصی حمایت حاصل ہے۔ ایک سروے کے مطابق 81 فیصد اسرائیلی ایران پر حملوں کی حمایت کرتے ہیں، تاہم وزیر اعظم نیتن یاہو پر اعتماد کی شرح اس سے نمایاں طور پر کم ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہودباراک نے کہا ہے کہ ایرانی قیادت کو کمزور کرنا دنیا کے لیے مثبت ہو سکتا ہے، تاہم نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل مناسب نہیں اور اس سے ایرانی اپوزیشن کو فائدہ پہنچنے کے بجائے نقصان ہو سکتا ہے۔
دی اکنامسٹ کے مطابق اگر یہ جنگ جلد ختم ہو کر اسرائیل کے حق میں جاتی ہے تو نیتن یاہو سیاسی طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ وہ قبل از وقت انتخابات کرانے کی کوشش کریں۔ تاہم اگر جنگ طویل ہو گئی یا امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں بڑھ گئیں تو اس کا سیاسی بوجھ اسرائیلی قیادت پر بھی پڑ سکتا ہے۔