لندن (رائٹرز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے باعث اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے، اور امریکی بحریہ نے فی الحال جہازوں کو فوجی سکیورٹی فراہم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی بحریہ نے شپنگ انڈسٹری کی جانب سے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر کی جانے والی درخواستوں کے باوجود آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو فوجی اسکواڈ فراہم کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ کے مطابق اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اس لیے فی الحال ایسا کرنا ممکن نہیں۔
امریکہ۔اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک ہفتے سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے جہاز رانی تقریباً معطل ہو چکی ہے۔ اس آبی راستے سے دنیا کے تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی ترسیل ہوتی ہے، جس میں رکاوٹ کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور اگر کوئی جہاز وہاں سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس پر فائر کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق چند جہازوں کو پہلے ہی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق امریکی بحریہ اور تیل و شپنگ کمپنیوں کے درمیان باقاعدہ بریفنگز ہو رہی ہیں جن میں صنعت کے نمائندے تقریباً روزانہ بحری اسکواڈ فراہم کرنے کی درخواست کرتے ہیں، تاہم بحریہ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جب تک حملوں کا خطرہ کم نہیں ہوتا، جہازوں کو سکیورٹی فراہم نہیں کی جا سکتی۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں کئی مرتبہ کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کو بحریہ کے ذریعے سکیورٹی فراہم کرے گا۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مار اے لاگو میں پریس کانفرنس کے دوران صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ “جب وقت آئے گا تو امریکی بحریہ اور اس کے اتحادی ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے محفوظ طریقے سے گزاریں گے۔ امید ہے کہ اس کی ضرورت نہیں پڑے گی، لیکن اگر پڑی تو ہم یہ ذمہ داری پوری کریں گے۔”
امریکی فوج کے اعلیٰ عہدیدار جنرل ڈین کین نے بھی صحافیوں سے گفتگو میں کہا ہے کہ اگر حکومت کی جانب سے حکم دیا گیا تو امریکی فوج اس حوالے سے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
تاہم ایک امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ اب تک امریکی فوج نے آبنائے ہرمز سے کسی بھی تجارتی جہاز کو فوجی اسکواڈ فراہم نہیں .