پنجاب: پانچ سال میں ایک لاکھ سے زائد خواتین اغوا، ہزاروں تاحال لاپتا، عدالت کا اظہارِ تشویش

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور میں خواتین کے اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات اور بازیابی میں ناکامی پر لاہور ہائی کورٹ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اغوا ہونے والی سینکڑوں خواتین تاحال لاپتا ہیں۔

انگریزی روزنامے دی نیشن کی خبر کے مطابق چیف جسٹس عالیہ نیلم نے 22 اپریل کو ایک درخواست کی سماعت کے دوران پولیس کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مغوی لڑکیوں کی بازیابی پولیس کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم ادارہ اس فرض کی ادائیگی میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔

یہ سماعت سلیمہ بی بی کی جانب سے دائر درخواست پر ہوئی، جس میں ان کی بیٹی مقدس بی بی کی بازیابی کی استدعا کی گئی تھی۔ عدالت میں پیش ہو کر انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس عبدالکریم اور دیگر اعلیٰ افسران نے پانچ سالہ رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کے مطابق سال 2021 سے 2025 کے دوران خواتین کے اغوا کے 1 لاکھ 5 ہزار 244 مقدمات درج ہوئے، جبکہ مجموعی طور پر 1 لاکھ 5 ہزار 571 خواتین کے اغوا کی اطلاع ملی۔ ان میں سے 70 ہزار 773 مقدمات دفعہ 365-بی اور 34 ہزار 471 مقدمات دفعہ 496-اے کے تحت درج کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 80 ہزار 706 مقدمات متاثرہ خواتین کے بیانات کی بنیاد پر خارج کر دیے گئے، جبکہ 20 ہزار 613 مقدمات کے چالان عدالتوں میں پیش کیے گئے۔ اس وقت 3 ہزار 864 مقدمات زیرِ تفتیش ہیں۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو آگاہ کیا کہ اب تک 612 خواتین کو بازیاب کرایا گیا ہے، جبکہ 3 ہزار 258 خواتین تاحال لاپتا ہیں۔ ان اعداد و شمار پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی تعداد میں لڑکیوں کو بازیاب کیوں نہیں کرایا جا سکا۔

آئی جی نے انتظامی مسائل کو اس کی وجہ قرار دیا، تاہم عدالت نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ انتظامی امور کو درست کرنا خود پولیس کی ذمہ داری ہے اور اس حوالے سے غفلت ناقابلِ قبول ہے۔

دوسری جانب پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف لاہور شہر میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران اغوا ہونے والی 824 خواتین کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ ان میں سب سے زیادہ 282 خواتین کینٹ ڈویژن، 152 صدر ڈویژن اور 124 سٹی ڈویژن سے لاپتا ہیں، جبکہ ماڈل ٹاؤن سے 110، اقبال ٹاؤن سے 100 اور سول لائنز سے 56 خواتین بازیاب نہیں ہو سکیں۔

عدالت نے پولیس کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ ایسے تفتیشی افسران کا فوری جائزہ لیا جائے جو مغوی لڑکیوں کی بازیابی میں ناکام رہے، اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ ناقص کارکردگی کے حامل افسران کو آئندہ تفتیشی ذمہ داریاں نہ دی جائیں۔

آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایڈیشنل آئی جی کر رہے ہیں، جبکہ صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر بھی یونٹس فعال کیے گئے ہیں۔

عدالت نے خصوصی ٹیم کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ پیش کی جائے۔ کیس کی سماعت یکم جون تک ملتوی کر دی گئی جبکہ آئی جی پنجاب کو آئندہ پیشی پر ذاتی حاضری سے استثنیٰ دے دیا گیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں