تہران/واشنگٹن(ویب ڈیسک) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایک امریکی لڑاکا طیارہ ایران کے اوپر مار گرائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد امریکہ نے طیارے کے دو رکنی عملے کی تلاش کے لیے فوری ریسکیو کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ جنگ کے آغاز کے بعد اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعہ کی صبح ایک لڑاکا طیارے کے ملبے اور دم کے حصے کی تصاویر جاری کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کے نئے فضائی دفاعی نظام نے وسطی ایران کے اوپر ایک جدید امریکی طیارہ مار گرایا ہے۔ ابتدائی طور پر ایران نے دعویٰ کیا تھا کہ مار گرایا جانے والا طیارہ ایف۔35 تھا اور اس کا پائلٹ ممکنہ طور پر ہلاک ہو گیا ہے۔
تاہم فضائی دفاع کے ماہرین کے مطابق جاری کی گئی تصاویر دراصل امریکی فضائیہ کے ایف۔15ای لڑاکا طیارے کی ہیں جو برطانیہ کے رائل ایئر فورس لیکنهیتھ اڈے پر تعینات امریکی فضائیہ کے 494ویں اسکواڈرن سے تعلق رکھتا ہے۔ تاہم تصاویر کب اور کہاں لی گئیں اس کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
امریکی حکام نے غیر رسمی طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک ایف۔15ای طیارہ تباہ ہوا ہے اور امریکی محکمۂ دفاع اپنے عملے کو تلاش کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہا ہے، تاہم امریکی فوج کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
بعد ازاں ایران سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں ایک امریکی سی۔130 ہرکولیس طیارہ اور ایچ ایچ۔60 پیوہاک ہیلی کاپٹر نچلی پرواز کرتے ہوئے دکھائی دیے۔ ایک موقع پر ان کے دوران فضا میں ایندھن کی فراہمی کا عمل بھی دیکھا گیا، جس کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ ممکنہ طور پر طیارے کے دونوں پائلٹ ایجیکٹ ہو کر زندہ بچ گئے ہوں۔
برطانیہ کے دفاعی تحقیقی ادارے کے ماہر جسٹن برونک کے مطابق خصوصی ریسکیو ہیلی کاپٹروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگی سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے جس کا مقصد ایف۔15ای کے دونوں فضائی عملے کو تلاش کر کے محفوظ مقام تک منتقل کرنا ہے۔
ادھر سوشل میڈیا پر ایران کے پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایک اکاؤنٹ نے صحرا میں پڑی ایک ایجیکٹر سیٹ کی تصویر بھی جاری کی ہے جو بظاہر ایف۔15ای میں استعمال ہونے والی اے سی ای ایس۔ٹو قسم کی نشست سے مشابہ دکھائی دیتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ تصویر درست ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم از کم ایک پائلٹ محفوظ طور پر طیارے سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوا۔
ایرانی ٹی وی کے ایک میزبان نے مقامی شہریوں سے اپیل کی کہ اگر انہیں کوئی “دشمن پائلٹ” نظر آئے تو اسے پولیس کے حوالے کریں اور اس سلسلے میں اطلاع دینے والوں کے لیے انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔
ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے بعد میں دعویٰ کیا کہ مار گرائے گئے طیارے کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم اس رپورٹ میں طیارے کو بدستور غلطی سے ایف۔35 قرار دیا گیا۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس سے قبل ایران کے اس دعوے کی تردید کی تھی کہ آبنائے ہرمز کے قریب قشم جزیرے کے اوپر ایک اور ایف۔35 طیارہ مار گرایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ تمام امریکی لڑاکا طیارے محفوظ ہیں۔
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جاری تقریباً پانچ ہفتوں کی جنگ کے دوران اب تک کسی امریکی لڑاکا طیارے کے مار گرائے جانے کی تصدیق نہیں ہوئی تھی، البتہ یکم مارچ کو کویت کے فضائی دفاعی نظام کی فائرنگ کے نتیجے میں غلطی سے تین امریکی ایف۔15ای طیارے تباہ ہو گئے تھے۔
اسی دوران ایک امریکی ایف۔35 طیارے کو زمینی فائرنگ سے نقصان پہنچنے کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں ایک امریکی فضائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی، جبکہ 27 مارچ کو سعودی عرب کے پرنس سلطان فضائی اڈے پر ایرانی حملے میں امریکی ای۔3 سینٹری وارننگ اینڈ کنٹرول طیارہ بھی تباہ ہو گیا تھا۔