اسلام آباد (ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول کی قیمت میں فی الفور 80 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے سے کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے پیٹرول کی قیمت میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت 378 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے جبکہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر برقرار رکھی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی نئی قیمت کا اطلاق رات 12 بجے سے ہو گیا ہے اور یہ کمی آئندہ ایک ماہ کے لیے پورے ملک میں نافذ العمل رہے گی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اعلان کیا کہ وفاقی کابینہ کے ارکان دو ماہ کے بجائے چھ ماہ کی تنخواہیں قومی خزانے میں جمع کرائیں گے تاکہ مشکل معاشی حالات میں ریاستی وسائل کو سہارا دیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ہو چکا ہے اور مہنگائی نے دنیا کی بڑی معیشتوں کو بھی متاثر کیا ہے، تاہم حکومت کو عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی احساس ہے۔
وزیراعظم نے پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل استعمال کرنے والوں کو ایک ماہ کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ گڈز ٹرانسپورٹ کو بھی فی لیٹر 100 روپے سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
ان کے مطابق چھوٹے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے، بڑے ٹرکوں کو 80 ہزار روپے جبکہ بسوں کو ایک لاکھ روپے ماہانہ سبسڈی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو فی ایکڑ 1500 روپے امداد دی جائے گی جبکہ ریلوے کی اکنامی کلاس کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وفاق اور صوبے اس مشکل وقت میں مل کر کام کر رہے ہیں اور حکومت اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک عوام کی زندگی دوبارہ معمول پر نہیں آ جاتی۔
واضح رہے کہ اس سے قبل حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد پیٹرول 458 روپے 41 پیسے اور ڈیزل 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گیا تھا۔