ریاست، سکیورٹی اور طاقت: انسان کے سفر کا بدلتا ہوا مقصد

ایڈووکیٹ نور محمد مری
انسان ایک دن میں ریاست کے تصور تک نہیں پہنچا بلکہ یہ ایک طویل سفر کا نتیجہ تھا جو خوف، ضرورت اور بقا سے جڑا ہوا تھا۔ ابتدا میں انسان جنگل جیسی زندگی گزارتا تھا جہاں طاقت ہی سب کچھ تھی۔ پھر وہ خانہ بدوشی اور نیم خانہ بدوشی کی طرف آیا، شکار کرتا رہا، اور آہستہ آہستہ زراعت کی طرف بڑھا۔ اس دوران اسے سیلاب، بیماریوں، خوراک کی کمی اور دوسرے گروہوں کے حملوں جیسے مسائل کا سامنا رہا۔ ان حالات میں اکیلا انسان محفوظ نہیں تھا۔

اسی ضرورت نے انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک بڑی اجتماعی طاقت ہونی چاہیے جو اسے قدرتی آفات اور انسانی خطرات سے بچا سکے۔ ابتدا میں یہ طاقت طاقتور قبائل کے اتحاد کی صورت میں سامنے آئی۔ یہ اتحاد باہمی دفاع اور وسائل کی تقسیم کے لیے تھے۔ وقت کے ساتھ یہ اتحاد منظم نظام میں بدل گئے جہاں قیادت واضح ہوئی اور نظم و ضبط قائم ہوا۔ پھر یہی نظام آہستہ آہستہ ایک مضبوط اور کبھی کبھار جابرانہ ریاست کی شکل اختیار کر گیا۔ لیکن اس سب کا بنیادی مقصد عوام کی حفاظت اور فلاح ہی تھا۔

ریاست کی اصل بنیاد یہی تھی کہ وہ انسان کو عدم تحفظ سے نکال کر ایک محفوظ زندگی دے۔ لیکن جیسے جیسے معاشرے بڑے اور پیچیدہ ہوتے گئے، ریاست کی نوعیت بدلنے لگی۔ وسائل بڑھنے لگے، حکمران طبقے مضبوط ہوئے، اور طاقت خود ایک مقصد بن گئی۔ جو ادارے عوام کی خدمت کے لیے بنے تھے، وہ اپنی بقا کے لیے کام کرنے لگے۔ سکیورٹی جو پہلے فلاح کا ذریعہ تھی، خود ایک مقصد بن گئی۔

یہ تبدیلی اس وقت اور واضح ہو گئی جب ریاستیں ایک دوسرے کے مقابل آئیں۔ جنگیں، سرحدی تنازعات اور طاقت کی خواہش نے ریاستوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی فوجی طاقت بڑھائیں۔ اندرونی طور پر بھی کنٹرول اور نگرانی بڑھ گئی۔ اس عمل میں فلاح کا تصور مکمل ختم تو نہیں ہوا لیکن پیچھے چلا گیا۔ اب ریاست کی کامیابی اس بات سے ناپی جانے لگی کہ وہ کتنی مضبوط ہے، نہ کہ اس کے عوام کتنے خوشحال ہیں۔

یہ رجحان بیسویں صدی کی بڑی جنگوں میں واضح طور پر نظر آیا۔ ورلڈ وار اوّل اور ورلڈ وار دوم صرف جنگیں نہیں تھیں بلکہ پورے معاشرے ان میں شامل ہو گئے تھے۔ صنعت، سائنس، معیشت اور انسانی محنت سب کچھ جنگ کے لیے استعمال ہوا۔ ان جنگوں نے ریاستوں کو یہ سبق دیا کہ جدید دنیا میں بقا کے لیے فوجی طاقت ضروری ہے۔

ورلڈ وار دوم کے بعد بھی یہ سوچ ختم نہیں ہوئی بلکہ سرد جنگ کے دوران مزید مضبوط ہو گئی۔ اس دور میں براہ راست جنگ کم ہوئی لیکن ہر وقت جنگ کی تیاری جاری رہی۔ فوجی طاقت، ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت ریاست کا مستقل حصہ بن گئے۔

اسی ماحول میں جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے ترقی کی۔ ناسا جیسا ادارہ بظاہر خلائی تحقیق کے لیے بنا، لیکن اس کے پیچھے بھی بڑی طاقتوں کا مقابلہ تھا۔ راکٹ ٹیکنالوجی جو خلا میں جانے کے لیے استعمال ہوئی، وہی جنگ میں بھی استعمال ہو سکتی تھی۔

کمپیوٹر کی ترقی بھی ابتدا میں فوجی مقاصد کے لیے ہوئی، جیسے حساب کتاب اور خفیہ پیغامات کو سمجھنا۔ بعد میں یہی ٹیکنالوجی عام زندگی کا حصہ بن گئی۔ انٹرنیٹ بھی ابتدا میں دفاعی منصوبہ تھا تاکہ جنگ کے دوران رابطہ برقرار رکھا جا سکے۔ آج مصنوعی ذہانت، سائبر ٹیکنالوجی اور دیگر جدید نظام فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔

یہاں تک کہ بہت سے ایسے شعبے جو عام نظر آتے ہیں، ان کی جڑیں بھی دفاعی ضروریات سے جڑی ہوئی ہیں۔ ہوابازی، میٹریل سائنس اور دیگر علوم میں ترقی اکثر فوجی مقاصد کے تحت ہوئی۔

اس طرح ریاست، جو پہلے ہی سکیورٹی پر مرکوز ہو چکی تھی، ٹیکنالوجی کے ذریعے اور زیادہ طاقتور ہو گئی۔ سائنس اور ترقی جاری رہی، لیکن اس کا رخ اکثر طاقت اور دفاع کی طرف رہا۔ سوال یہ نہیں رہا کہ انسان کی فلاح کیسے ہو، بلکہ یہ بن گیا کہ ریاست کتنی مضبوط ہو سکتی ہے۔

یقیناً ان ترقیات سے انسان کو فائدہ بھی ہوا ہے۔ زندگی آسان ہوئی ہے، رابطے بہتر ہوئے ہیں، علاج میں بہتری آئی ہے۔ لیکن ایک حقیقت واضح ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اکثر پہلے جنگ کے لیے بنتی ہے اور بعد میں امن کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

اس طرح ریاست اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے کو مضبوط کرتے ہیں۔ ریاست خطرات کا جواز دے کر اپنی طاقت بڑھاتی ہے، اور ٹیکنالوجی اسے مزید وسائل فراہم کرتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ امن کے زمانے میں بھی جنگ کی تیاری جاری رہتی ہے۔

یوں انسان کا سفر بقا سے سکیورٹی تک پہنچا، لیکن اس میں ایک تضاد پیدا ہو گیا۔ ریاست جو انسان کی حفاظت کے لیے بنی تھی، اب اپنی بقا کو زیادہ اہم سمجھنے لگی ہے۔ آج کا اصل سوال یہ ہے کہ کیا سکیورٹی انسان کی خدمت کر رہی ہے، یا انسان سکیورٹی کے نظام کا حصہ بن چکا ہے؟

اپنا تبصرہ لکھیں