واشنگٹن: ہلٹن ہوٹل میں تقریب کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ محفوظ، ملزم گرفتار

واشنگٹن(ویب ڈیسک) ہلٹن ہوٹل واشنگٹن میں ہفتہ کی شب ایک اہم عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت اعلیٰ امریکی حکام موجود تھے۔

واقعے کے فوری بعد سکیورٹی پر مامور سیکرٹ سروس نے صدر اور دیگر اہم شخصیات کو بحفاظت مقام سے منتقل کر دیا۔ بعد ازاں ایف بی آئی نے حملہ آور کی گرفتاری کی تصدیق کی۔

وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ حملہ آور “کافی خطرناک” دکھائی دیتا تھا اور اس نے تقریباً پچاس گز کے فاصلے سے دوڑ کر حملہ کرنے کی کوشش کی، تاہم سکیورٹی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے قابو کر لیا۔

مشتبہ حملہ آور کون ہے؟

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 31 سالہ کول تھامس ایلن کے طور پر ہوئی ہے، جو کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ پولیس کے مطابق وہ اسی ہوٹل میں بطور مہمان مقیم تھا جہاں یہ تقریب جاری تھی۔

میٹروپولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے قائم مقام سربراہ جیفری کیرول کے مطابق ملزم کے پاس ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چاقو موجود تھے۔ واقعے کے بعد اس کے ہوٹل کے کمرے کو سیل کر دیا گیا ہے جبکہ کیلیفورنیا میں اس کے اپارٹمنٹ کی بھی تلاشی لی جا رہی ہے۔

حکام کے مطابق ملزم اس وقت پولیس حراست میں ہے اور اسے قریبی ہسپتال میں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ آور اکیلا تھا اور اس کے محرکات تاحال معلوم نہیں ہو سکے۔

پولیس چیف کا کہنا تھا کہ واقعے کے باوجود سکیورٹی نظام مؤثر ثابت ہوا اور چیک پوائنٹ پر تعینات اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ممکنہ بڑے نقصان کو ٹال دیا۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اس وقت عوام کو کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں