حیدرآباد(انڈس ٹربیون) انسپکٹر جنرل سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ صوبے میں مجموعی طور پر جرائم میں کمی آئی ہے، تاہم یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ جرائم مکمل طور پر ختم ہو جائیں۔
حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ چند واقعات کی بنیاد پر امن و امان کی مجموعی صورتحال کو خراب قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں بدامنی میں کمی آئی ہے، مگر یہ کوئی مکہ مدینہ نہیں کہ جرائم کا مکمل خاتمہ ہو.
انہوں نے اعتراف کیا کہ سندھ پولیس کا شعبۂ تفتیش کمزور ہے، جسے بہتر بنانے کے لیے دو ہزار اسسٹنٹ سب انسپکٹرز (اے ایس آئی) بھرتی کیے جائیں گے۔
جاوید عالم اوڈھو نے بتایا کہ ای چالان نظام کے نفاذ سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور اب ٹریفک پولیس اہلکاروں کو جدید کیمرے فراہم کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی شہری قانون کی خلاف ورزی کرے گا، اہلکار اس کی تصویر لے کر فوری چالان جاری کریں گے۔
آئی جی سندھ نے اس موقع پر حیدرآباد سیف سٹی منصوبے کا افتتاح بھی کیا، جسے انہوں نے شہر کے عوام کے لیے ایک اہم تحفہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے شہر میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے گا اور جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی۔