کراچی (انڈس ٹربیون)ُسندھ کی تقسیم سے متعلق تجاویز اور حالیہ اطلاعات کے خلاف سندھ انٹلیکچوئل فورم کی اہم بیٹھک میں ملک گیر کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ اہل قلم نے بھی سندھ کی سیاسی، انتظامی، تاریخی اور تہذیبی وحدت کو متاثر کرنے والی کسی بھی کوشش کی شدید مخالفت کرتے ہوئے مزاحمت کا اعلان کیا ہے۔
سندھ انٹلیکچوئل فورم کے اجلاس میں سندھ کی تاریخی، جغرافیائی، آئینی، قومی اور تہذیبی حیثیت سمیت اس کی وحدت سے متعلق امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔ بدھ کے روز بلائے گئے اجلاس میں معروف ٹیکنوکریٹ میر افسرالدین ٹالپر، ڈاکٹر محبوب شیخ، پروفیسر اعجاز قریشی، امان اللہ شیخ، شبیر چانڈیو، اسلم بلوچ، شمس الدین زئونر، آغا سعید، غلام اکبر ملک اور خلیل چانڈیو سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔
فورم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق شرکا نے سندھ میں نئے صوبے یا صوبے کی تقسیم سے متعلق سامنے آنے والی خبروں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کی تقسیم کسی بھی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی وحدت محض جغرافیائی معاملہ نہیں بلکہ اس کی تاریخی، تہذیبی، ثقافتی اور قومی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔
شرکا نے مؤقف اختیار کیا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کی بحث ایک الگ معاملہ ہے، تاہم سندھ کی تاریخی شناخت اور وحدت کو متاثر کرنے والی کسی بھی کوشش کی مزاحمت کی جائے گی۔ ان کے مطابق سندھ کے عوام اپنی سرزمین کی وحدت کے تحفظ کے لیے سیاسی، فکری اور عوامی سطح پر اپنا کردار ادا کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 18 اگست کو شام 4 بجے پاک امریکن کونسل میں ملک گیر کانفرنس منعقد کی جائے گی، جس میں ملک بھر سے نامور دانشور، ماہرین، قانون دان، ادیب اور فکری شخصیات شرکت کریں گی اور سندھ کی تقسیم سے متعلق تجاویز کے خلاف اپنا موقف پیش کریں گی۔
دوسری جانب انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ اہل قلم نے بھی حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ان خبروں پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق بعض مقتدر حلقے انتظامی بہتری اور حکمرانی کے نام پر سندھ کی تقسیم کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔
اہل قلم کے مطابق سندھ کے کسی ایک یا دوسرے حصے کو صوبے سے الگ کرکے اسے کسی نئی انتظامی وحدت میں تبدیل کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوسکتے ہیں اور اس سے سندھ کی سیاسی، انتظامی اور تہذیبی وحدت کو نقصان پہنچے گا۔
بیان میں کہا گیا کہ مرکزیت پسند سوچ کے نتیجے میں صوبوں کے اندر لسانی اور انتظامی تقسیم کی فضا پیدا کرنے کی کوششیں ماضی میں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اہل قلم نے خبردار کیا کہ سندھ کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے سے ملک کے اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ اہل قلم پروفیسر امین زیدی، ڈاکٹر سیدہ جعفر احمد، ڈاکٹر بدران، سمیرا ناز من، پروفیسر نصیف احمد خان، جناب رئیس داؤد، پروفیسر شاہد کمال، نعیم شیخ، ڈاکٹر خادم ملک، سلطان نقوی، اجمل حیدر سومرو، ممتاز رضی اور اسحق سومرو نے جاری کردہ مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ سندھ کی تقسیم کے کسی بھی منصوبے کو رد کیا جائے گا اور سندھ کے مختلف علاقوں میں موجود تخلیقی و فکری حلقے اس کے خلاف مزاحمت کریں گے۔ ان کے مطابق سندھ کی تقسیم کا کوئی بھی اقدام شدید انتشار کا باعث بن سکتا ہے اور اس کے علمی و ثقافتی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
سندھ انٹلیکچوئل فورم نے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے باشعور شہریوں، ادیبوں، وکلا، اساتذہ، سیاسی و سماجی کارکنوں اور فکری شخصیات سے 18 اگست کی کانفرنس میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے۔