اسلام آباد(دی انڈس ٹربیون) آبپاشی کے ماہر اور دانشور نصیر میمن نے خبردار کیا ہے کہ چناب دریا پر چار چھوٹے ڈیموں کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جن کا مجموعی ذخیرہ چار ملین ایکڑ فٹ سے زائد ہوگا۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ گریٹر چولستان منصوبے کا ایک اہم حصہ بن سکتا ہے۔
نصیر میمن کے مطابق تقریباً ایک ماہ قبل لاہور میں واپڈا کے چیئرمین کے ساتھ سندھ محکمہ آبپاشی کے وفد کی ایک طویل ملاقات ہوئی تھی، جس میں چناب پر چار ڈیموں کی تعمیر کا معاملہ بھی ایجنڈے میں شامل تھا۔
انہوں نے بتایا کہ گریٹر چولستان منصوبے میں ابتدائی طور پر چناب پر تین ڈیموں، مڈ رانجھا، شاہ جیونہ اور چنیوٹ، کا ذکر تھا، تاہم اب وزیرآباد کے قریب چوتھے ڈیم کو بھی منصوبے میں شامل کر لیا گیا ہے۔ ان چاروں ڈیموں کی مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت چار ملین ایکڑ فٹ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔
نصیر میمن کے مطابق واپڈا نے منصوبے کے پہلے مرحلے کے طور پر چنیوٹ ڈیم پر عملی پیش رفت شروع کر دی ہے اور اس کا پی سی ون بھی تیار ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ منصوبہ اب مختلف متعلقہ فورمز، جن میں ارسا، سی ڈی ڈبلیو پی اور ایکنک شامل ہیں، کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
انہوں نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ منصوبے کو ابتدائی مرحلے ہی میں روکنے کے لیے قانونی، فنی اور سیاسی سطح پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔ ان کے بقول سندھ کے آبپاشی اور ترقیاتی محکموں کو مکمل تیاری کے ساتھ تکنیکی بنیادوں پر منصوبے کی مخالفت کرنی چاہیے، جبکہ سندھ حکومت کو سیاسی سطح پر اس کی منظوری روکنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
نصیر میمن نے خبردار کیا کہ چنیوٹ ڈیم کی منظوری یا تعمیر کی جانب پیش رفت ہوئی تو باقی تین ڈیموں کے لیے بھی راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے جلالپور کینال منصوبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر سرکاری اور سیاسی ردعمل میں کسی قسم کی سستی سندھ کے مفادات کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔
انہوں نے سندھ حکومت کو یہ قانونی پہلو بھی جانچنے کی تجویز دی کہ آیا معاملہ اسی مرحلے پر مشترکہ مفادات کونسل میں اٹھایا جا سکتا ہے یا پہلے اسے ارسا اور دیگر متعلقہ فورمز پر روکنے کی کوشش کی جائے۔
نصیر میمن نے سندھ کی سیاسی جماعتوں اور سیاسی قوتوں پر بھی زور دیا کہ وہ اس معاملے پر سندھ کے عوام کی رہنمائی اور نمائندگی کریں اور چناب پر مجوزہ ڈیموں کے منصوبے کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے کر اپنا واضح مؤقف سامنے لائے۔