پنجاب میں نئے متنازعہ نہری منصوبوں سے سندھ کا آبی مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے: نصیر میمن

اسلام آباد(انڈس ٹربیون) پاکستان میں دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم ایک بار پھر بحث کا موضوع بنتی جا رہی ہے۔ معروف ماہرِ آبپاشی و ماحولیات نصیر میمن نے خبردار کیا ہے کہ چناب دریا پر گریٹر چولستان نہری منصوبے سمیت متعدد نئی آبی اسکیموں پر پیش رفت سندھ کے لیے مستقبل میں پانی کی شدید قلت کا سبب بن سکتی ہے۔

نصیر میمن کے مطابق ابتدا میں گریٹر چولستان منصوبے کے تحت تین چھوٹے ڈیم تجویز کیے گئے تھے، تاہم اب ان کی تعداد چار بتائی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ جہلم اور چناب بیسن کو آپس میں ملانے کے لیے دس ہزار کیوسک گنجائش کے منگلا–مرالہ لنک کینال کی تعمیر کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جبکہ تین دیگر لنک نہروں کی گنجائش بڑھانے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ تمام منصوبے عملی شکل اختیار کرتے ہیں تو ان کے اثرات صرف پنجاب کے آبی نظام تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سندھ کے حصے میں آنے والے پانی پر بھی نمایاں دباؤ پڑ سکتا ہے۔ ان کے بقول خدشہ ہے کہ سندھ کو خریف کے موسم میں بھی پانی کی شدید کمی کا سامنا کرنا پڑے، جس سے زرعی پیداوار، لاکھوں ایکڑ زیرِ کاشت رقبہ، دریائے سندھ کے قدرتی بہاؤ اور انڈس ڈیلٹا کا ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرِ آبپاشی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد سے قبل ان کی مکمل تکنیکی تفصیلات، پانی کی دستیابی، ماحولیاتی اثرات اور بین الصوبائی آبی معاہدوں کے تناظر میں ان کا جائزہ عوام اور تمام صوبوں کے سامنے شفاف انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے ان منصوبوں کے حوالے سے مختلف اوقات میں یہ مؤقف اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ نئے آبی منصوبوں کا مقصد دستیاب پانی کا بہتر انتظام، ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ اور زرعی ضروریات پوری کرنا ہے۔ تاہم سندھ کی سیاسی، سماجی اور ماہرین کی مختلف حلقوں کی جانب سے ان منصوبوں پر مسلسل تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے اور ان کا مؤقف ہے کہ دریائے سندھ سمیت انڈس رور سسٹم میں آنے والے کسی بھی دریا پر مزید کسی ڈیم یا کینال بنانے کی گنجائش نہیں۔ انڈس رور سسٹم پر نئے منصوبوں میں سندھ میں پانی کی شدید قلت کے ساتھ انڈس ڈیلٹا سکڑ جانے کا خدشہ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں