سجاول: ساحلی علاقے میں گیس کی اہم دریافت، پی پی ایل کا نیا ہائیڈروکاربن پلی ثابت ہونے کا دعویٰ

کراچی(ویب ڈیسک) پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) نے سندھ کے ضلع سجاول میں سرانی بلاک کے تحت اپنے آپریٹ کردہ تحقیقی کنویں Dolphin X-1 سے گیس اور کنڈنسیٹ کی دریافت کا اعلان کیا ہے۔

پی پی ایل کے مطابق یہ لوئر انڈس بیسن میں جراسک دور کی چلتن فارمیشن سے ہائیڈروکاربن کی پہلی دریافت ہے، جس سے ایک نئے ہائیڈروکاربن پلی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔

کمپنی کے مطابق یہ دریافت سندھ کے دلدلی اور مشکل جغرافیائی علاقے میں طویل عرصے سے سمجھے جانے والے ناقابلِ رسائی ایکسپلوریشن فرنٹیئر میں اہم پیش رفت ہے۔ پی پی ایل نے کہا کہ اس دریافت سے ساحلی دلدلی علاقوں کے ساتھ ساتھ ان کے ممکنہ شالو آف شور حصوں میں بھی تیل و گیس کی تلاش کے امکانات مزید روشن ہوئے ہیں۔

پی پی ایل کے مطابق کمپنی نے اس مشکل علاقے میں خصوصی ٹرانزیشن آلات استعمال کرتے ہوئے 2D اور 3D سیسمک ڈیٹا حاصل کیا، جس کے بعد ایک غیر دریافت شدہ علاقے کو ممکنہ پیٹرولیم پلی میں تبدیل کیا گیا۔

کمپنی کے مطابق Dolphin X-1 کی ڈرلنگ 17 اپریل 2026 کو شروع کی گئی اور کنویں کو 3,850 میٹر گہرائی تک کھودا گیا۔ ڈرلنگ اور وائر لائن لاگز کے نتائج کی بنیاد پر چلتن فارمیشن میں ہائیڈروکاربن رکھنے والے زون کی نشاندہی ہوئی۔

پی پی ایل کا کہنا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران چلتن فارمیشن سے تقریباً 1000 BTU فی مکعب فٹ حرارتی قدر کی معیاری گیس حاصل ہوئی، جس کا بہاؤ 0.942 ملین مکعب فٹ یومیہ (MMscfd) ریکارڈ کیا گیا۔

سرانی بلاک میں پی پی ایل کا 75 فیصد ورکنگ انٹرسٹ ہے، جبکہ مشترکہ شراکت دار گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (GHPL) کا حصہ 25 فیصد ہے۔ کمپنی کے مطابق کنویں کی ڈرلنگ اور ٹیسٹنگ میں مقامی ماہرین اور ملکی تکنیکی صلاحیتوں کو استعمال کیا گیا۔

پی پی ایل نے اس منصوبے کے دوران تعاون پر پاکستان نیوی کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس تعاون نے منصوبے کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔

تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی ارضیاتی، جیو فزیکل اور انجینئرنگ ٹیسٹ کے نتائج کے مطابق ذخیرے کی نوعیت کم نفوذ پذیری (Tight Reservoir) کی معلوم ہوتی ہے۔ پی پی ایل کے مطابق اس کی حتمی تصدیق کے لیے کنویں کی ڈرلنگ اور ٹیسٹنگ کے دوران حاصل کیے گئے جیو لوجیکل، جیو فزیکل اور ریزروائر انجینئرنگ ڈیٹا کا مزید تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں