اسلام آباد(ویب ڈیسک)امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے پاکستان میں اپنا پہلا مقامی دفتر قائم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک کی ڈیجیٹل معیشت، آئی ٹی صنعت اور نوجوانوں کے لیے مہارتوں کے فروغ کے پروگراموں میں تعاون بڑھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق گوگل کے نو رکنی وفد نے نائب صدر برائے حکومتی امور و عوامی پالیسی ولسن وائٹ کی قیادت میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جبکہ اس موقع پر پاکستان میں امریکی سفارتخانے کی ناظم الامور نٹالی بیکر بھی موجود تھیں۔
وزیراعظم نے گوگل کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان حکومتی نظام کی وسیع پیمانے پر ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، جس میں معیشت کی ڈیجیٹلائزیشن بھی شامل ہے۔
انہوں نے وفد کو حکومت کے ’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘ وژن سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹلائزیشن کے فروغ کے لیے متعدد منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں۔
گوگل کے دفتر کے قیام کو وزیراعظم نے کمپنی کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری مزید مضبوط کرنے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ گوگل نے پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے اور اس کے پروگراموں سے ہزاروں پاکستانی نوجوانوں کو روزگار اور مہارتوں کے مواقع ملے ہیں۔
ولسن وائٹ نے کہا کہ پاکستان میں مقامی دفتر کا قیام ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی میں گوگل کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔ ان کے مطابق دفتر کے ذریعے پاکستانی کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی میں مدد ملے گی جبکہ نوجوانوں کے لیے آئی ٹی، مصنوعی ذہانت، گیمنگ اور دیگر شعبوں میں مہارتوں کے پروگراموں کو وسعت دی جائے گی۔
پاکستانی طلبہ کے لیے گوگل جیمنائی ایک سال مفت
گوگل کے نائب صدر نے اعلان کیا کہ پاکستان کے تمام طلبہ کے لیے گوگل جیمنائی کی سبسکرپشن ایک سال تک مفت کی جائے گی۔ ان کے مطابق اس اقدام کا باضابطہ اعلان رواں ہفتے کے آخر میں متوقع ہے۔
ولسن وائٹ نے کہا کہ وزیراعظم کا پاکستان کو 30 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات کا مرکز بنانے کا ہدف گوگل کے مقاصد سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ 10 برس کے دوران گوگل نے پاکستان کے مقامی کاروباروں اور گھرانوں کے لیے 3.9 ٹریلین روپے سے زیادہ کی معاشی سرگرمی میں کردار ادا کیا، جبکہ اس کے نتیجے میں 9 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ ملازمتوں کو سہارا ملا۔
پاکستان میں کروم بکس کی اسمبلی
گوگل کے وفد نے پاکستان میں گزشتہ برس قائم کی گئی کروم بک اسمبلی لائن کا بھی ذکر کیا۔ پاکستان میں گوگل کروم بکس کی اسمبلی کا باضابطہ افتتاح نومبر 2025 میں کیا گیا تھا۔
اس منصوبے کے تحت خیبر پختونخوا کے شہر ہری پور میں نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن (این آر ٹی سی) کی سہولت کو کروم بکس کی مقامی اسمبلی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ولسن وائٹ کے مطابق پاکستان میں تیار کی جانے والی کروم بکس کو خطے کے دیگر ممالک کو برآمد کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
ماہرین نے اقدام کو خوش آئند قرار دے دیا
آئی ٹی ماہرین نے کہا ہے کہ گوگل جیمنائی ایک سال کے لیے مفت ہونے سے پاکستانی طلبہ کو مصنوعی ذہانت کے شعبے میں سیکھنے کے نئے مواقع ملیں گے۔
ماہرین کے مطابق گوگل کے مقامی دفتر کے قیام سے پاکستانی صارفین کا کمپنی کی مصنوعات پر اعتماد بڑھے گا اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں بھی بہتری کے امکانات پیدا ہوں گے۔