شکارپور: پولیس آپریشن کے دوران مارٹر گولہ جھونپڑی پر گرنے سے کسان باپ بیٹا جاں بحق، 7 زخمی

شکارپور (رپورٹ: بھاگ چند) خانپور مہر سے اغوا ہونے والے صحافی عظیم سیال کی بازیابی کے لیے پیر اور منگل کے درمیانی شب پولیس آپریشن کے دوران مبینہ مارٹر گولہ جھونپڑی پر گرنے سے محنت کش باپ بیٹا جاں بحق جبکہ خواتین اور 3 سالہ بچی سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

ذرائع کے مطابق سکھر، شکارپور اور گھوٹکی پولیس کی جانب سے صحافی محمد عظیم سیال کی بازیابی کے لیے کارروائی کی جا رہی تھی کہ دورانِ آپریشن مبینہ طور پر ڈرون کیمرے کے ذریعے پھینکا گیا مارٹر گولہ گاؤں منظور شاہ کے قریب محنت کش محمد حسن میرانی کی جھونپڑی پر جا گرا۔

گولہ گرنے کے نتیجے میں 55 سالہ محمد حسن میرانی اور ان کا بیٹا 35 سالہ منیر میرانی جاں بحق ہوگئے، جبکہ خاندان کے 7 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 3 سالہ علیزہ، کامران ولد گل خان، صغراں زوجہ گل خان، شازیہ زوجہ منیر، لاریب دختر منیر، مجیب ولد منیر اور تحسین ولد منیر شامل ہیں۔


File URL:
Copy URL to clipboard
Attachment Display Settings
Alignment
Link To
Size
Selected media actions
1 item selectedClear
Insert into post

زخمیوں کو طبی امداد کے لیے آر بی یو ٹی سول اسپتال شکارپور منتقل کیا گیا۔

پوسٹ مارٹم کیلئے لاشیں دربدر

واقعے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد کی لاشیں ابتدا میں پنوعاقل اسپتال منتقل کی گئیں، تاہم پولیس کی جانب سے واقعہ شکارپور ضلع کی حدود میں ہونے کی نشاندہی کے بعد لاشیں خانپور اسپتال منتقل کردی گئیں۔

ورثا کے مطابق خانپور اسپتال میں پولیس کی جانب سے چیکنگ فارم فراہم نہ کیے جانے کے باعث پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل نہ ہوسکا، جس کے بعد لاشیں سرد خانے منتقل کردی گئیں۔ بعد ازاں ضروری قانونی کارروائی مکمل ہونے پر لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں۔

واقعے کے بعد چک شہر کے غریب آباد محلے میں سوگ کی فضا چھا گئی۔ ورثا نے واقعے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

جاں بحق افراد کے رشتہ دار گل خان میرانی نے بتایا کہ وہ نعیم جتوئی کی زمین پر تل کی فصل کی کٹائی کے لیے گئے تھے اور رات کے وقت اچانک ان کی جھونپڑی پر گولہ آ گرا، جس کے نتیجے میں ان کے والد اور بھائی جاں بحق جبکہ خاندان کے 7 افراد زخمی ہوگئے۔

گل خان میرانی کا کہنا تھا کہ ’’ہم غریب لوگ ہیں، ہمارا گھر اجڑ گیا ہے، ہمارے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے، ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔‘‘

انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ واقعے میں دو افراد جاں بحق اور 7 زخمی ہوئے جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں جبکہ دو افراد لاپتا بھی ہیں۔ ان کے مطابق لاشوں کے پوسٹ مارٹم کے لیے بھی انہیں مختلف اسپتالوں کے درمیان دربدر ہونا پڑا اور سکھر و شکارپور پولیس حدود کے معاملے پر ایک دوسرے کی طرف معاملہ منتقل کر رہی ہیں۔

دوسری جانب واقعے کے حوالے سے سکھر اور شکارپور پولیس کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

اپنا تبصرہ لکھیں