پشاور (انڈس ٹربیون) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما شاندانہ گلزار نے کہا ہے کہ اگر گورنر راج کی بات کی جارہی ہے تو پہلے بلوچستان میں نافذ کیا جائے، جہاں ان کے بقول حکومت کی 80 فیصد رِٹ ختم ہوچکی ہے۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاندانہ گلزار نے کہا کہ پی ٹی آئی کو گورنر راج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں، تاہم بلوچستان کے حالات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے حلقے میں روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ ان کا سوال تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ کیا کبھی ان علاقوں میں گئے ہیں؟
شاندانہ گلزار نے کہا کہ پولیس لائنز دھماکے کی انکوائری بھی تاحال منظر عام پر نہیں لائی گئی۔
پی ٹی آئی رہنما نے ملک کی معاشی صورتحال اور مہنگائی پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ معاشی حالات خراب اور مہنگائی عروج پر ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’فارم 47 والے‘‘ آئین کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی محاذ آرائی نہیں چاہتی، فوج اور پولیس ملک کے ادارے ہیں اور وہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ ’’ہم کتابوں والے لوگ ہیں، جہازوں والے نہیں،‘‘ شاندانہ گلزار نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کو کنٹینروں سے بند کردیا گیا ہے، تاہم پی ٹی آئی 4 اکتوبر کو وزیراعلیٰ اور جنید اکبر کے ساتھ بھرپور انداز میں نکلے گی۔
شاندانہ گلزار نے کہا کہ ان کی جماعت آئین کے راستے سے نہ بائیں جائے گی اور نہ دائیں، بلکہ آئین کے مطابق اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔