حکومت اور پی ٹی آئی کے مذاکرات ناکام، لانگ مارچ شیڈول کے مطابق ہوگا: بیرسٹر گوہر

اسلام آباد: حکومت اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار ہے، جبکہ دونوں فریقین کے درمیان سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب دو بجے کے بعد مذاکراتی عمل کسی مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کے بغیر ختم ہوگیا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں مذاکرات کے بعد حکومتی نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا کی قیادت کی بار بار مداخلت کے باعث مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوسکی، جبکہ اپوزیشن نے دہشت گردی سے متعلق حکومتی مطالبات پر تحفظات کا اظہار کیا۔

پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے دوران مسودے میں چار مرتبہ تبدیلیاں کی گئیں اور مختلف نکات پر اپنی جماعتی قیادت سے مسلسل مشاورت بھی کی جاتی رہی۔

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی محور خیبر پختونخوا میں امن و امان اور دہشت گردی کی صورت حال تھی۔ حکومت چاہتی تھی کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر کردار ادا کرے، تاہم اپوزیشن اس معاملے پر تعاون کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق حکومت نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کے معاملے پر لچک دکھائی، لیکن دیگر اہم نکات پر اتفاق نہ ہوسکا۔

رانا ثنا اللہ نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کے مجوزہ لانگ مارچ کو اسلام آباد کی حدود میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف تعاون کی صورت میں مستقبل میں مذاکرات کا دروازہ کھلا رہ سکتا ہے۔

دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ان کی جماعت مذاکرات کی کامیابی چاہتی تھی، لیکن تاحال یہ طے نہیں ہوسکا کہ بات چیت کا اگلا دور کب ہوگا۔

انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ لانگ مارچ کے نام پر ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہییں جن سے خیبر پختونخوا کے عوام میں نفرت اور تقسیم پیدا ہو یا صوبے کے مینڈیٹ، خودمختاری اور اختیارات متاثر ہوں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبائی حقوق اور عوامی مینڈیٹ کے خلاف کسی اقدام کی گنجائش نہیں اور ایسے اقدامات اٹھارویں ترمیم کی روح کے بھی منافی ہوں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لانگ مارچ کا جواب ایمرجنسی یا گورنر راج کی صورت میں نہیں دیا جانا چاہیے۔

وفاقی وزیر طلال چوہدری اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے رکن سید نوید قمر نے بھی مذاکرات میں تعطل کا ذمہ دار خیبر پختونخوا کی قیادت کو قرار دیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ مسودہ چار مرتبہ حتمی شکل کے قریب پہنچا، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی جانب سے نئی ترامیم کے باعث اتفاق رائے نہ ہوسکا۔

وفاقی وزیر امیر مقام نے بھی الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی قیادت مذاکرات میں پیش رفت کے باوجود لانگ مارچ کے فیصلے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھی۔

مذاکراتی عمل کے اختتام کے بعد سیاسی کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، جبکہ لانگ مارچ کے حوالے سے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں