میرپور ماتھیلو(رپورٹ: فلک شیر) سندھ کے ضلع گھوٹکی کے علاقے رونتی کے کچے میں منعقدہ پہلے شہید محترمہ بینظیر بھٹو تین روزہ امن اسپورٹس فیسٹیول کی اختتامی تقریب منعقد ہوئی، جس میں صوبائی وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار اور آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے خصوصی شرکت کی۔ فیسٹیول میں ملاکھڑا، کبڈی اور دیگر روایتی کھیلوں کے مقابلے منعقد کیے گئے، جبکہ نمایاں کارکردگی دکھانے والے کھلاڑیوں میں انعامات، شیلڈز اور میڈلز تقسیم کیے گئے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح صوبے میں امن و امان کا قیام ہے۔ کچے میں امن کے لیے حساس اداروں، رینجرز اور سندھ پولیس کو مکمل تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کچے کے رہائشی ہمارے دل کے قریب ہیں اور نفرت صرف ظلم کرنے والوں سے ہے۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو ریاست برداشت نہیں کرے گی۔
ضیاء الحسن لنجار کے مطابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اجلاس کے بعد کچے میں سرینڈر پالیسی شروع کی گئی، جس کے نتائج سامنے آ رہے ہیں اور رونتی کے کچے میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت کچے کے علاقوں میں اسکول، ڈسپنسریاں اور مویشیوں کے اسپتال قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ مقامی آبادی کو بنیادی سہولیات میسر آسکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ کچے کے بچے بھی مستقبل میں ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی جیسے عہدوں پر فائز ہوں۔
انہوں نے گھوٹکی، کندھ کوٹ پل کی جلد تعمیر کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ دونوں اضلاع کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کچے میں امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرنے والے پولیس افسران کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی سرینڈر پالیسی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے باہمی تعاون سے کچے میں امن قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔ امن کے قیام کے لیے طاقت کے ساتھ محبت اور پیار سے بھی کام لیا گیا۔
انہوں نے قبائلی برادریوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کا خیال رکھیں، بصورت دیگر زمینیں بنجر اور آنے والی نسلیں متاثر ہوں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کچے میں مستقل امن یقینی بنایا جائے گا اور جہاں سختی کی ضرورت ہوئی، وہاں سختی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے کچے کے علاقوں کو سرسبز و شاداب بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
ڈپٹی کمشنر گھوٹکی منظور احمد کنرانی نے بتایا کہ امن قائم ہونے کے بعد کچے میں ابتدائی طور پر دو پرائمری اسکول قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مقامی رہائشیوں کو میڈیکل کیمپوں کے ذریعے علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے پولیس نے بے شمار قربانیاں دی ہیں اور عوامی تعاون سے کچے کی صورتحال بہتر ہو رہی ہے۔
تقریب کے دوران امن قافلے میں شامل خواتین شگفتہ، رامین اور انجم کی خدمات کو بھی سراہا گیا اور صوبائی وزیر داخلہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی۔
اختتامی تقریب میں ڈی سی گھوٹکی، ڈی آئی جی سکھر، ایس ایس پی گھوٹکی اور رینجرز حکام سمیت دیگر متعلقہ شخصیات نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق امن اسپورٹس فیسٹیول کا مقصد کچے میں امن کے قیام کے بعد کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا اور مقامی آبادی میں مثبت سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔