سکھر(رپورٹ: تاج رند) فرسٹ ایڈیشنل سیشن جج اور ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ (MCTC-I) سکھر کے جج پردیپ کمار نے 28 اگست 2025 سے 30 ستمبر 2026 تک تیرہ ماہ کے مختصر عرصے میں مجموعی طور پر 1346 مختلف مقدمات اور درخواستیں نمٹا دیں، جبکہ عدالت میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 301 سے کم ہو کر 151 رہ گئی۔
عدالتی اعداد و شمار کے مطابق، مذکورہ عرصے کے دوران قتل کے 20 مقدمات نمٹائے گئے، جن میں سے 4 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں، 7 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے، جبکہ ایک مقدمے میں فریقین کے درمیان راضی نامہ ہوا۔ باقی 7 مقدمات التوا میں رکھے

اسی طرح منشیات سے متعلق 63 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جن میں سے 13 مقدمات میں ملزمان کو سزائیں سنائی گئیں، 39 مقدمات میں ملزمان بری ہوئے، جبکہ 9 مقدمات التوا میں رکھے گئے۔
عدالت نے اس عرصے کے دوران 905 متفرق درخواستیں اور ضمانت کی 288 درخواستیں بھی نمٹائیں۔
اس کے علاوہ 8 دیوانی اپیلوں، 5 خاندانی اپیلوں، 6 دیوانی نظرثانی درخواستوں اور وراثت و جانشینی سے متعلق 24 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق، 11 اسلحہ مقدمات، 8 فوجداری نظرثانی درخواستیں، نابالغ ملزمان کے 4 مقدمات اور 4 فوجداری اپیلیں بھی نمٹائی گئیں۔
زیرِ التوا مقدمات میں 150 کی کمی
عدالتی رپورٹ کے مطابق، جج پردیپ کمار نے 28 اگست 2025 کو عہدے کا چارج سنبھالا تو عدالت میں 301 مقدمات زیرِ التوا تھے، جن کی تعداد 30 ستمبر 2026 تک کم ہو کر 151 رہ گئی۔ اس طرح عدالت میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد میں 150 کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
چیف جسٹس سندھ کی جانب سے تعریفی سند پیش
چیف جسٹس ہائی کورٹ آف سندھ کی جانب سے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج سکھر اللہ بچایو گبول نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج-I سکھر مسٹر پردیپ کمار کو ان کی بہترین کارکردگی، عدالتی خدمات اور سائلین کو بر وقت انصاف کی فراہمی کی کوششوں پر تعریفی سند (Certificate of Appreciation) پیش کیا ہے۔

یہ اعزاز دسمبر 2025ء کے دوران عدالتوں میں سالہا سال سے زیر التوا مقدمات (Backlog of cases) میں نمایاں کمی لانے اور کیسز کا جلد فیصل کرنے کی کاوشوں پر دیا گیا ہے۔