پشاور اسکول حادثہ: ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، 33 بچے اور خاتون ٹیچر جاں بحق، پرنسپل گرفتار

پشاور(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے علاقے دیر کالونی میں نجی اسکول کی عمارت گرنے سے ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی، جن میں 33 بچے اور ایک خاتون ٹیچر شامل ہیں۔ پولیس نے اسکول کے پرنسپل کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق لیڈی ریڈنگ اسپتال نے 33 اموات کی تصدیق کی ہے، جبکہ نصیر اللہ خان بابر میموریل اسپتال میں زیرِ علاج ایک طالبہ بھی دم توڑ گئی، جس کے بعد مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 34 ہوگئی۔

لیڈی ریڈنگ اسپتال کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 25 سالہ خاتون ٹیچر ثمرین بی بی بھی شامل ہیں۔ اسپتال میں لائے گئے بچوں کی عمریں 6 سے 14 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کے مطابق 17 بچوں کو علاج کے بعد ڈسچارج کردیا گیا ہے، جبکہ ایک ٹیچر اور تین بچے اب بھی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

دوسری جانب نصیر اللہ خان بابر میموریل اسپتال کے مطابق 33 طلبہ و طالبات کو اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جن میں سے ایک طالبہ جانبر نہ ہوسکی۔

اسکول کا پرنسپل گرفتار، عمارت کی خستہ حالی کا انکشاف

پشاور پولیس کے مطابق اسکول کے پرنسپل کو گرفتار کرلیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر ایجوکیشن ٹرسٹ کے تحت تعلیمی ادارہ چلا رہا تھا۔

سی سی پی او پشاور نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں عمارت کی تعمیر میں کمزوری کو حادثے کی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ دیر کالونی میں واقع الخیر اسکول کی عمارت انتہائی خستہ حالت میں تھی اور پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ عمارت کا پہلے کبھی معائنہ کیا گیا تھا یا نہیں۔

پولیس حکام کے اندازے کے مطابق اسکول میں تقریباً 300 طلبہ زیرِ تعلیم تھے، جبکہ عمارت گرنے سے متاثر ہونے والے تین کلاس رومز میں تقریباً 100 طلبہ موجود تھے۔

عمارت کی ساخت سے متعلق سوالات

جائے وقوعہ پر موجود بی بی سی کے نامہ نگار بلال احمد کے مطابق اسکول دو منزلہ عمارت میں قائم تھا، جس کی چھت پہلے سے تیار شدہ سلیبوں پر مشتمل دکھائی دیتی تھی۔

ان کے مطابق بظاہر عمارت میں روایتی پکا لینٹر موجود نہیں تھا، بلکہ تیار شدہ چھتیں نصب کی گئی تھیں۔ ملبے کی صورتِ حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ اوپری حصے کی چھت گرنے کے بعد اس کا ملبہ نیچے کلاس روم میں موجود بچوں پر بھی آ گرا۔

تاہم عمارت کی اصل ساخت، تعمیراتی معیار اور حادثے کی حتمی وجہ کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گا۔

ریسکیو آپریشن مکمل

ریسکیو 1122 کے ریجنل ڈائریکٹر عارف خٹک کے مطابق اسکول کی عمارت گرنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں، تاہم جائے وقوعہ پر ملبہ موجود ہے۔

عارف خٹک نے بتایا کہ ریسکیو کارروائیوں میں 100 اہلکاروں، 18 ایمبولینسوں اور تین بھاری مشینوں نے حصہ لیا، جبکہ 45 زخمیوں کو صوبے کے بڑے اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

ریسکیو حکام کے مطابق ابتدائی طور پر عمارت گرنے کی اطلاع موصول ہوئی تھی، تاہم جائے وقوعہ پر پہنچنے کے بعد عمارت کی ساخت اور اس کی منزلوں سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں۔

تحقیقاتی کمیٹی تشکیل

خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے اسکول کی چھت گرنے کے واقعے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی قائم کردی ہے۔

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی کی سربراہی پرائیویٹ اسکول ریگولیٹری اتھارٹی کے سربراہ جاوید اقبال کریں گے۔

کمیٹی حادثے کے اسباب اور حالات کا جائزہ لے گی اور اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا واقعہ تعمیراتی خامیوں، غفلت یا کسی دوسری وجہ سے پیش آیا۔

تحقیقاتی کمیٹی کو مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

اسکول کی عمارت گرنے کے بعد امدادی کارروائیاں مکمل کرلی گئی ہیں، تاہم حادثے کی حتمی وجہ، عمارت کی تعمیر میں ممکنہ غفلت اور ذمہ داروں کا تعین تحقیقات کے نتائج سامنے آنے کے بعد ہی ہوسکے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں