لاڑکانہ(انڈس ٹربیون) سندھ کی تقسیم اور صوبے کو مزید انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی مبینہ کوششوں کے خلاف چار قوم پرست جماعتوں پر مشتمل جئے سندھ رہبر کمیٹی کی جانب سے جمعرات کو لاڑکانہ میں لاہوری محلہ، رائس کینال ریگولیٹر سے پریس کلب کی طرف مارچ شروع کیا گیا۔ مارچ کے شرکا نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مختلف اضلاع سے آنے والی سیکڑوں گاڑیوں کو لاڑکانہ پہنچنے سے روک دیا، جبکہ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی کیا گیا۔
مارچ کی قیادت جئے سندھ محاذ کے چیئرمین ریاض چانڈیو، ڈاکٹر نیاز کالانی، جئے سندھ تحریک کے چیئرمین شبیر جمالی اور جئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زؤر نے کی۔ مارچ میں سندھ کے مختلف شہروں اور قصبوں سے بڑی تعداد میں کارکنوں نے شرکت کی۔ شرکا نے کلہاڑی والے سرخ پرچم، بینرز اور اپنی جماعتوں کے رہنماؤں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔
لاڑکانہ میں مارچ کے شرکا کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کی گئی تھی۔ شرکا کے لاہوری ریگولیٹر پہنچنے پر پولیس نے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی، تاہم کارکن رکاوٹیں ہٹا کر یا ان پر سے گزر کر آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔ مارچ المرتضیٰ ہاؤس روڈ اور قائم شاہ بخاری روڈ سے ہوتا ہوا جناح باغ چوک پہنچا، جہاں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔
جلسے سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ریاض چانڈیو نے دعویٰ کیا کہ شکارپور، قمبر، شہدادکوٹ اور میروخان سے کارکنوں کو لانے والی سیکڑوں گاڑیوں کو پولیس نے لاڑکانہ آنے سے روکا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نیاز کالانی کے قافلے کو بھی راستے میں روک دیا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا سندھ میں بھی ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے؟ ریاض چانڈیو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے اسمبلی میں سندھ کو اپنی ماں قرار دینے کی بات کی، لیکن جب لوگ اسی مؤقف کے ساتھ سڑکوں پر نکلے تو ان کے خلاف طاقت استعمال کی گئی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی سندھ کو تقسیم اور تباہ کرنے کے منصوبے میں شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں سے آنے والے کارکنوں کو خیرپور پل پر بھی روکا گیا، جو حکومتی آمرانہ طرزِ عمل اور پولیس کی زیادتیوں کا ثبوت ہے۔
ریاض چانڈیو نے پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چھ متنازع نہروں کے خلاف جدوجہد کے دوران بھی پارٹی خاموش رہی، جس سے پنجاب کو دریائے سندھ میں سندھ کے حصے کا پانی حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے وسائل کی لوٹ مار اور تباہی میں شریک ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کارروائیوں اور رکاوٹوں کے باوجود سندھ کے وسائل اور دریائے سندھ کے تحفظ کی تحریک سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 نومبر کو کراچی میں لاکھوں افراد جمع ہوں گے۔ انہوں نے راستوں کی بندش کو مارشل لا جیسی بدترین آمریت قرار دیتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا۔
جئے سندھ قومی محاذ (بشیر) کے چیئرمین ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہے دفعہ 144 نافذ کرے یا پاکستان پینل کوڈ کی دیگر دفعات کے تحت کارروائی کرے، سندھ کے عوام کسی بھی نام یا نعرے کے تحت صوبے کی تقسیم قبول نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ اپنی ساحلی پٹی کو کسی عالمی طاقت کے اڈے کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سندھ کو تقسیم کرنے کا منصوبہ آگے بڑھایا گیا تو پنجاب کی جانب جانے والی سڑکیں اور ریلوے لائنیں بند کردی جائیں گی۔
جئے سندھ تحریک کے چیئرمین شبیر جمالی نے الزام عائد کیا کہ سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے اور پنجاب کے ایک وزیر کے ذریعے عوام تک اس حوالے سے پیغام پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی صوبے کو چار انتظامی اکائیوں میں تقسیم کرنے کی قرارداد منظور کرچکی ہے، جبکہ سندھ اسمبلی نے سندھ کی تقسیم کے حق میں کوئی قرارداد منظور نہیں کی۔
جئے سندھ قومی پارٹی کے چیئرمین نواز خان زؤر نے کہا کہ مارچ کو روکنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم کارکن رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے کراچی اور سندھ کے ساحلی علاقوں کو وفاق کے حوالے کرنے کی کسی بھی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کا کوئی حصہ وفاق کے حوالے کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ہی سندھ کے وسائل اور پانی پر اپنا حق چھوڑا جائے گا۔
کریک ڈاؤن کے خلاف دھرنا، مذاکرات کے بعد ختم
مارچ کے دوران کارکنوں کے خلاف مبینہ کریک ڈاؤن اور ان کی گاڑیوں کو روکے جانے کے خلاف چاروں قوم پرست جماعتوں کے رہنماؤں نے جناح باغ چوک پر دھرنا بھی دیا۔

ڈی ایس پی لاڑکانہ فراز میتلو نے ریاض چانڈیو، ڈاکٹر نیاز کالانی اور دیگر رہنماؤں سے مذاکرات کیے، جس کے بعد وہ دھرنا ختم کرانے میں کامیاب ہوگئے۔
ڈاکٹر نیاز کالانی کے مطابق دھرنا اس وقت ختم کیا گیا جب تمام سات کارکنوں کی رہائی عمل میں آئی۔