سندھ کو اے آئی پر مبنی ڈیجیٹل صوبہ بنانے کا منصوبہ، ہواوے سے معاہدہ

شنگھائی(انڈس ٹربیون) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی ڈیجیٹل صوبہ بنانے کے لیے عالمی ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے کے ساتھ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ کراچی اور شنگھائی کو جڑواں شہر قرار دینے اور شہری انتظام، جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں اشتراک کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے دورۂ چین کے دوران سندھ حکومت اور ہواوے کے درمیان سرکاری امور کی ڈیجیٹلائزیشن، صوبائی کلاؤڈ نظام، ڈیٹا سینٹرز، سائبر سیکیورٹی، مصنوعی ذہانت، اسمارٹ سٹیز اور ڈیجیٹل گورننس کے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر وزیراعلیٰ کے معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید قمر نے دستخط کیے۔ تقریب میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ہواوے پاکستان کے چیئرمین سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔

کراچی اور شنگھائی کو جڑواں شہر بنانے کی تجویز

وزیراعلیٰ سندھ نے شنگھائی کے میئر ژو ژونگ منگ سے ملاقات میں کراچی اور شنگھائی کے درمیان باضابطہ جڑواں شہروں کی شراکت داری قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی اور شنگھائی اہم تجارتی اور بندرگاہی شہر ہیں، جو شہری منصوبہ بندی، پبلک ٹرانسپورٹ، جدید ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

مراد علی شاہ نے شنگھائی کے حکام کو کراچی سرکلر ریلوے سمیت شہر میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی میں شہری خدمات کو بہتر بنانے، ٹریفک اور دیگر شہری مسائل کے حل اور انتظامی امور کو مؤثر بنانے کے لیے شنگھائی کے اسمارٹ سٹی ماڈل سے استفادہ کرنا چاہتی ہے۔

ملاقات میں سندھ اور شنگھائی کے درمیان سرمایہ کاری، کاروباری روابط اور ادارہ جاتی تعاون بڑھانے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کراچی میں اسمارٹ سٹی نظام اور سیلاب کی پیشگی اطلاع کا منصوبہ

وزیراعلیٰ سندھ نے ہواوے کے ساتھ شراکت داری کے پہلے سال کے لیے چار اہم ترجیحات تجویز کیں، جن میں کراچی کے انتظامی امور اور سیلاب سے قبل انتباہ کے لیے آزمائشی ڈیجیٹل پلیٹ فارم کا قیام شامل ہے۔

مجوزہ پلیٹ فارم کے ذریعے شہری مسائل کی بروقت نشاندہی، ہنگامی حالات سے نمٹنے اور سیلاب کے خطرات سے متعلق پیشگی معلومات فراہم کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ اس سلسلے میں چین کے شہر ووہان کے اسمارٹ سٹی ماڈل سے بھی استفادہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی جیسے دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں ڈیٹا کی بنیاد پر شہری انتظام کا نظام متعارف کرانا ضروری ہے تاکہ مسائل کی بروقت نشاندہی اور شہریوں کو بہتر سہولیات کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔

صوبائی کلاؤڈ نظام اور ڈیٹا سینٹرز کا قیام

وزیراعلیٰ سندھ نے دوسری ترجیح کے طور پر صوبائی کلاؤڈ نظام اور ڈیٹا سینٹرز کے قیام کے لیے جامع لائحۂ عمل تیار کرنے کی تجویز دی۔

مجوزہ منصوبے میں سائبر سیکیورٹی، ہنگامی حالات میں ڈیٹا اور نظام کی بحالی، مصنوعی ذہانت کے لیے کمپیوٹنگ سہولیات اور سرکاری محکموں کے ڈیجیٹل نظام کو مربوط کرنے جیسے شعبے شامل ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ سرکاری امور کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ڈیجیٹل گورننس کے اقدامات کر رہی ہے، جن میں صوبائی ای پورٹل اور ڈیجیٹل تبدیلی کا وسیع تر منصوبہ شامل ہے۔

کراچی ایجوکیشن سٹی میں تحقیق و تربیت کا مرکز

شراکت داری کی تیسری ترجیح کراچی ایجوکیشن سٹی میں جدت، تحقیق اور تربیت کا مرکز قائم کرنا تجویز کیا گیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت تحقیق و ترقی کی سہولیات، مصنوعی ذہانت پر مبنی اسمارٹ پارک اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا جائے گا۔

چوتھی ترجیح سندھ کے طلبہ اور نوجوانوں کو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی (آئی سی ٹی) کی تربیت اور پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹس فراہم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے صوبے کی جامعات، ٹیکنالوجی اداروں اور ہواوے کے درمیان تعاون بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور ہواوے کے اقدام کے تحت تین لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو تربیت دینے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔

ہواوے سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی صلاحیتوں پر زور

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت محض ٹیکنالوجی کی خریداری تک محدود رہنے کے بجائے مشترکہ منصوبوں، تحقیق و ترقی، تکنیکی معلومات کی منتقلی اور مقامی ماہرین کی تربیت کے ذریعے ٹیکنالوجی کے شعبے میں اپنی صلاحیتیں بڑھانا چاہتی ہے۔

انہوں نے ہواوے کو کراچی میں تحقیق و ترقی کی سہولیات یا ٹیکنالوجی لیبارٹریاں قائم کرنے کی دعوت دی، خصوصاً کراچی ایجوکیشن سٹی اور دیگر مجوزہ ٹیکنالوجی منصوبوں کے تناظر میں۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں نوجوان آئی ٹی ماہرین کی بڑی تعداد موجود ہے اور صوبہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ہنرمند افرادی قوت اور نئی منڈیوں کے حوالے سے اہم مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ شراکت داری کی کامیابی کا اصل پیمانہ شہریوں کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور نوجوانوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع ہوں گے۔

انہوں نے مشترکہ منصوبوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے دونوں فریقوں کے نمائندوں پر مشتمل مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی۔

ہواوے کے تحقیقی مرکز کا دورہ

وزیراعلیٰ سندھ نے شنگھائی میں ہواوے کے لیانچیو لیک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر کا دورہ بھی کیا، جہاں انہیں کمپنی کی تحقیق، جدت اور جدید انفارمیشن و کمیونیکیشن ٹیکنالوجی سے متعلق سرگرمیوں پر بریفنگ دی گئی۔

حکام کے مطابق یہ مرکز چین کے شہر شنگھائی کے چنگ پو ضلع میں واقع ہے اور ہواوے کے بڑے عالمی تحقیقی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس منصوبے پر 10 ارب چینی یوآن سے زیادہ سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

مرکز میں سیمی کنڈکٹرز، چِپ ڈیزائن، وائرلیس نیٹ ورکس، فائیو جی اور سکس جی ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، انٹرنیٹ آف تھنگز اور ذہین گاڑیوں سمیت مختلف شعبوں میں تحقیق کی جاتی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے تحقیق و ترقی کے شعبے میں ہواوے کی سرمایہ کاری اور جدت کے لیے کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ مسلسل تحقیق نے کمپنی کو عالمی ٹیکنالوجی کی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انہیں دی گئی بریفنگ کے مطابق ہواوے نے 2025 میں تحقیق و ترقی پر 192.3 ارب چینی یوآن خرچ کیے، جو کمپنی کی سالانہ آمدنی کا 21.8 فیصد تھا۔ اسی سال کمپنی کی آمدنی 880.9 ارب چینی یوآن اور خالص منافع 68 ارب چینی یوآن رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ہواوے گزشتہ ایک دہائی کے دوران تحقیق و ترقی پر 1.38 ٹریلین چینی یوآن سے زیادہ خرچ کر چکی ہے۔

شراکت داری پر عمل درآمد کے لیے مشترکہ ورکنگ گروپ

وزیراعلیٰ سندھ نے ہواوے کی ٹیم کو کراچی کے دورے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان دیرپا تکنیکی شراکت داری کو عملی منصوبوں میں تبدیل کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی، مقامی صلاحیتوں کی ترقی اور نوجوانوں کی تربیت کے ذریعے سندھ میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ملاقاتوں میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر منصوبہ بندی و ترقی جام خان شورو، وزیر زراعت سردار محمد بخش خان مہر، معاونِ خصوصی برائے سرمایہ کاری سید قاسم نوید قمر، میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ نجم احمد شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف عباس، سیکریٹری سرمایہ کاری راجہ خرم شہزاد اور دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔

اپنا تبصرہ لکھیں