سائیں جی ایم سید کیخلاف مبینہ ہتک آمیز ویڈیو، سید زین شاہ کی جانب سے این سی سی آئی اے میں بیان ریکارڈ

کراچی(انڈس ٹربیون) سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وائس چیئرمین سید زین شاہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر مبینہ ہتک آمیز ویڈیو کے خلاف دائر درخواست کے سلسلے میں سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کے وفد نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں پیش ہو کر ان کا بیان ریکارڈ کروایا اور مزید ڈیجیٹل شواہد حکام کے حوالے کیے۔

سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم کے مطابق سید زین شاہ، ان کے والد سید امداد محمد شاہ اور سائیں جی ایم سید کے خلاف مبینہ توہین آمیز زبان کے استعمال اور کردار کشی کے معاملے پر این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کروائی گئی تھی۔ 22 اکتوبر کو موصول ہونے والے نوٹس کے سلسلے میں فورم کے مرکزی وفد نے متعلقہ ادارے میں پیش ہو کر کارروائی میں حصہ لیا۔

وفد میں فورم کے صدر محمد فہیم ضیاء ایڈووکیٹ، سیکریٹری خواجہ نوید امین ایڈووکیٹ اور اشرف علی چانڈیو ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلا شامل تھے۔

فورم نے مطالبہ کیا کہ مبینہ ویڈیو، اس کے اصل ماخذ، تیاری اور تشہیر میں ملوث عناصر کے حوالے سے غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں۔ اس کے علاوہ شکایت کے ساتھ فراہم کردہ ویڈیو، اسکرین شاٹس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا فرانزک جائزہ لے کر قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

فورم کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشرے کا بنیادی حق ہے، تاہم اختلاف کی آڑ میں کسی کی تضحیک اور کردار کشی مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملات میں حقائق کا تعین شواہد کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے اور کسی بھی شخص کی ذمہ داری ثابت ہونے پر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔

سندھ یونائیٹڈ لائرز فورم نے این سی سی آئی اے سے مطالبہ کیا کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) سمیت دیگر قابلِ اطلاق قوانین کے تحت معاملے کی تحقیقات کرکے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے۔

فورم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے کی قانونی پیروی جاری رکھے گا اور سندھ کے عوام کے آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں