ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو مزید 10، 10 سال قید کی سزا، ہم ضمیر کے قیدی ہیں: ایمان/ہادی

اسلام آباد(ویب ڈیسک) انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان زینب مزاری حازر اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو سیکیورٹی بریچ کیس میں 10، 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنا دی۔

جج طاہر عباس سپرا نے جمعرات کو اڈیالہ جیل میں سماعت کے بعد فیصلہ سنایا، جہاں دونوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی جیل میں کی جا رہی تھی۔

یہ مقدمہ 2024 میں ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے سیکیورٹی روٹ میں مبینہ رکاوٹ ڈالنے اور عوام کو بدامنی پر اکسانے کے الزامات سے متعلق ہے۔ استغاثہ کے مطابق، ملزمان نے سیکیورٹی روٹ پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹائی تھیں۔ دونوں ملزمان نے 7 اکتوبر کو فردِ جرم عائد ہونے کے بعد صحتِ جرم سے انکار کیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق، دونوں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کی دفعہ 7 (h) کے تحت 10 سال قید اور ایک لاکھ روپے فی کس جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ یہ دفعہ سرکاری اہلکار کو قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنے یا اس پر عمل درآمد کے لیے سنگین دھمکی یا دباؤ ڈالنے سے متعلق ہے۔

عدالت نے پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعہ 186 کے تحت سرکاری اہلکار کو فرائض کی انجام دہی سے روکنے پر ایک، ایک سال قید اور 50 ہزار روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا، جبکہ دفعہ 353 کے تحت سرکاری اہلکار کو فرائض کی ادائیگی سے روکنے کے لیے حملے یا مجرمانہ طاقت کے استعمال پر دو، دو سال قید کی سزا سنائی۔

فیصلے کے مطابق، تمام سزائیں بیک وقت جاری رہیں گی۔

عدالت نے قرار دیا کہ دونوں ملزمان مشترکہ نیت اور مشترکہ مقصد کے تحت کیے گئے جرم کے ذمہ دار ہیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمان کا مقصد سیکیورٹی اہلکاروں پر دباؤ ڈال کر سیکیورٹی انتظامات کو متاثر کرنا تھا۔

عدالت نے تسلیم کیا کہ نقل و حرکت کا حق آئینی حق ہے، تاہم اس کے ساتھ ملکی قوانین کی پابندی بھی لازم ہے۔ فیصلے میں 2009 میں لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ پولیس اہلکاروں پر حملہ اور پاکستان آنے والی بین الاقوامی ٹیم کی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے کی کوشش سے خوف و ہراس پھیلانے کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔

تاہم عدالت نے ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 506 (دھمکی دینے)، 120-B (مجرمانہ سازش)، 148 (مہلک ہتھیار سے مسلح ہو کر ہنگامہ آرائی) اور 149 (غیر قانونی اجتماع کے مشترکہ مقصد کے تحت جرم کی ذمہ داری) کے الزامات سے بری کر دیا۔

مقدمے میں استغاثہ نے مجموعی طور پر سات گواہ پیش کیے، جبکہ عدالت کی جانب سے مقرر کردہ سرکاری وکیل عاطف محمود نے دفاع کی نمائندگی کرتے ہوئے گواہوں پر جرح کی۔

’ہم ضمیر کے قیدی ہیں‘

دفعہ 342 ضابطہ فوجداری کے تحت اپنے بیانات میں ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے اور محروم و مظلوم طبقات کو بلا معاوضہ قانونی معاونت فراہم کرنے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دونوں نے اپنے بیانات میں کہا کہ مقدمے میں پیش کیے گئے شواہد ان کے خلاف نہیں بلکہ استغاثہ کے گواہوں، پولیس اہلکاروں اور ریاست کے خلاف چارج شیٹ ہیں۔

ایمان مزاری نے کہا کہ وہ ضمیر کی قیدی ہیں اور ریاستی انتقام کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق، جیل میں مقدمے کی کارروائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

انہوں نے یہ بھی اعتراض کیا کہ دورانِ سماعت انہیں اور ان کے شوہر کو پنجرے میں بٹھایا جاتا تھا، جس سے اپنے وکلا اور عدالت کے ساتھ مؤثر رابطے میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے دن سے ہی منصفانہ ٹرائل، قانونی تقاضوں اور بنیادی انسانی وقار سے متعلق آئینی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔

گرفتاری، سزا اور دوبارہ گرفتاری

ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ 23 جنوری سے جیل میں ہیں، جب انہیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر احتجاج اور مبینہ طور پر ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر کے ساتھ بدسلوکی کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔

گرفتاری کے اگلے ہی روز سیشن عدالت نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق مقدمے میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کے تحت مختلف الزامات میں دونوں کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی۔ ان سزاؤں پر وکلا، انسانی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے تنقید کی تھی۔

17 ستمبر کو سپریم کورٹ نے اس مقدمے میں دونوں کی سزائیں معطل کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلوں کے حتمی فیصلے تک رہائی کا حکم دیا تھا، تاہم چند گھنٹے بعد ہی اسلام آباد پولیس نے انہیں سیکیورٹی بریچ کیس میں دوبارہ گرفتار کر لیا۔

یہ مقدمہ وفاقی دارالحکومت کے تھانہ کوہسار میں 22 مارچ 2025 کو سٹی مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ چانڈیو کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔

اپنا تبصرہ لکھیں