تحفظ کی اپیلیں بے اثر، سندھ میں کاروکاری اور غیرت کے نام پر 10 افراد قتل

سکھر(انڈس ٹربیون انویسٹی گیشن:تاج رند) سندھ میں کاروکاری اور غیرت کے نام پر قتل کے واقعات نے ایک بار پھر خواتین کے تحفظ، پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کی سلامتی اور پولیس کی ذمہ داریوں سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ گزشتہ چار روز کے دوران مختلف اضلاع میں پیش آنے والے واقعات میں چھ خواتین سمیت 10 افراد قتل کر دیے گئے۔ ان واقعات میں پسند کی شادی کرنے والے جوڑے، بیویاں اور کاروکاری کے الزامات کا سامنا کرنے والے افراد شامل ہیں۔

ان واقعات کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ بعض مقتولین نے مبینہ طور پر قتل سے قبل دھمکیوں کا ذکر کرتے ہوئے تحفظ کی اپیل بھی کی تھی، لیکن یہ اپیلیں ان کی جان بچانے میں ناکام رہیں۔

پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کے قتل، تحفظ کی اپیلیں بے اثر

پنوعاقل میں جمعرات کو قومی شاہراہ پر پنوعاقل چھاؤنی کے وی آئی پی گیٹ کے سامنے پیش آنے والے واقعے میں سابق شوہر عبدالحنان سمیجو نے اپنے والد عبدالمالک کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر راولپنڈی جانے والی مسافر کوچ روک کر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں آرمی اہلکار بدر شیخ اور ان کی اہلیہ صدرہ سمیجو جاں بحق ہو گئے۔

اطلاعات کے مطابق، جوڑے نے ایک ہفتہ قبل پسند کی شادی کی تھی۔ صدرہ سمیجو نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر ویڈیو بیان جاری کرکے اپنی جان کو لاحق خطرے کا ذکر کیا اور تحفظ کی اپیل کی تھی۔

واقعے کے بعد دونوں ملزمان نے بائجی تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دے دی۔ پولیس نے سرکاری مدعیت میں گرفتار دونوں ملزمان سمیت 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔

سکھر: واقعے کے بعد دونوں ملزمان نے بائجی تھانے میں پیش ہو کر گرفتاری دے دی۔

اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ سانگھڑ کے شہر شہدادپور میں پیش آیا، جہاں پسند کی شادی کرنے والے نثار لاشاری اور ذکیہ بلیڈی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں سیم نالے میں پھینک دی گئیں۔

پولیس کے مطابق، جوڑے نے قتل سے ایک ہفتہ قبل پسند کی شادی کی تھی۔ دھمکیاں ملنے کے بعد وہ گاؤں سے شہدادپور جا رہے تھے کہ راستے میں گھات لگائے مسلح افراد نے انہیں گھیر لیا۔ جان بچانے کے لیے جوڑا گنے کی فصل میں چھپ گیا، تاہم حملہ آوروں نے انہیں وہاں بھی قتل کر دیا۔

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق، جوڑے نے قتل سے تین روز قبل نواب شاہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے تحفظ کی اپیل کی تھی۔

نوابشاہ: مقتول جوڑے نے قتل سے تین روز قبل نواب شاہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے تحفظ کی اپیل کی تھی۔

یہ واقعات ایک بنیادی سوال کو جنم دیتے ہیں: اگر کسی جوڑے کو اپنی جان کا خطرہ ہو اور وہ متعلقہ حکام سے تحفظ کی درخواست بھی کرے تو اس کی حفاظت کے لیے کون سے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں؟

کاروکاری کے الزامات، انسانی جانوں کا مسلسل ضیاع

قمبر شہدادکوٹ ضلع کے علاقے وارہ میں جمعہ کے روز گاؤں فیض محمد سوڈھر میں مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام پر 35 سالہ اسلم سوڈھر اور 25 سالہ شبیران لاشاری کو قتل کر دیا گیا۔

شکارپور ضلع کے علاقے لکھی غلام شاہ میں ہفتے کے روز کفایت اللہ جونیجو نے مبینہ طور پر کاروکاری کے الزام پر فائرنگ کرکے اپنی بھابھی مرڪ جونیجو اور نوجوان الہٰی بخش جونیجو کو قتل کر دیا۔ پولیس نے مقتولین کی لاشوں کا تعلقہ اسپتال میں پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ورثا کے حوالے کیا۔ واقعے کا مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا، تاہم فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

اتوار کے روز سکھر ضلع کی تحصیل پنوعاقل کے گاؤں نوراجا میں بائجی تھانے کی حدود میں صدام سمیجو نے مبینہ طور پر فائرنگ کرکے اپنی بیوہ بھابھی صائمہ سمیجو کو قتل کر دیا۔

مقتولہ کے والد حاجی صوبن سمیجو نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی بیٹی پر کاروکاری کا جھوٹا الزام لگا کر اسے قتل کیا گیا۔ پولیس نے لاش اسپتال منتقل کی، جہاں پوسٹ مارٹم کے بعد اسے ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔ آخری اطلاعات تک مقدمہ درج نہیں ہوا تھا۔

ان واقعات میں کاروکاری کے الزامات کو قتل کی وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم کسی الزام کو جرم کا ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسے معاملات کی تحقیقات، ذمہ داروں کا تعین اور قانونی کارروائی ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کسی فرد یا خاندان کو اپنی مرضی سے کسی کی جان لینے کا اختیار نہیں۔

تشدد سے تنگ آکر گھر چھوڑنے والی خاتون بھی محفوظ نہ رہ سکی

لاڑکانہ ضلع کے علاقے رتودیرو میں عابدا بپڑ کو ان کے شوہر ذاکر بپڑ نے مبینہ طور پر سر میں گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

مقتولہ کی بہن آسیہ کے مطابق، عابدا تین سال قبل شوہر کے تشدد سے تنگ آکر رتودیرو میں اپنی بہن کے گھر رہنے لگی تھیں۔ واقعے سے ایک روز قبل ملزم انہیں منانے کے بہانے اپنی سالی کے گھر آیا اور رات وہاں گزاری۔ اگلے روز بیوی کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کا کہہ کر لاڑکانہ روانہ ہوا، تاہم سیلرا بائی پاس پر انہیں قتل کر دیا۔

لاڑکانہ: مقتولہ کی بہن آسیہ کے مطابق، عابدا تین سال قبل شوہر کے تشدد سے تنگ آکر رتودیرو میں اپنی بہن کے گھر رہنے لگی تھیں۔

یہ واقعہ گھریلو تشدد سے بچنے کے لیے گھر چھوڑنے والی خواتین کے تحفظ سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ اگر تشدد کا شکار خواتین کو محفوظ پناہ گاہ، قانونی معاونت اور خطرے کی صورت میں فوری تحفظ میسر نہ ہو تو تشدد زدہ ماحول سے نکلنا بھی ان کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

خواتین کے حقوق کی کارکنوں میں تشویش

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رہنماؤں شیرین زنئور، ڈاکٹر عائشہ دھاریجو اور زبیدہ کنول نے چار روز کے دوران چھ خواتین سمیت 10 افراد کے قتل پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سندھ میں خواتین کے لیے حالات انتہائی تشویش ناک ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق، خواتین اور پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کے قتل کے واقعات خواتین کے تحفظ اور کاروکاری کے خاتمے سے متعلق حکومتی دعوؤں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

پولیس اور حکومت کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟

ان واقعات کے تناظر میں تین بنیادی سوالات اہمیت اختیار کر گئے ہیں: قتل کی دھمکیاں ملنے یا تحفظ کی اپیل کیے جانے پر پولیس کیا اقدامات کرتی ہے؟ خواتین اور پسند کی شادی کرنے والے جوڑوں کو خطرے کی صورت میں فوری تحفظ فراہم کرنے کا مؤثر نظام کتنا فعال ہے؟ اور کاروکاری یا غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات میں گرفتاریوں، تحقیقات اور عدالتی کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

اپنا تبصرہ لکھیں