اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر دنیش کمار نے دعویٰ کیا کہ میاں مٹھو نے ہندو لڑکیوں کو اغوا کرکے زبردستی شادیاں کرانے کے لیے ایک گروہ تشکیل دے رکھا ہے، لیکن سندھ پولیس اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تیار نہیں۔
انہوں نےکہا کہ بلوچستان سے ایک چودہ سالہ کمسن ہندو لڑکی کو اغوا کر کے میاں مٹھو کے پاس پہنچا کر مسلمان کیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ سندھ میں اٹھارہ سال سے کم عمری کے شادی جرم ہے، مگر ہندو بچیوں کے معاملے میں قانون خاموش ہے۔
دنیش کمار نےکہا کہ میاں مٹھو نےریاست کے اندر ریاست قائم کر کے رکھی ہے، ان جیسے لوگوں دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی کا باعث ہیں، میاں مٹھو کو ہندو بچیوں کو اغوا اور ان کی زبردستی مذہب تبدیلی کے بعد شادیاں کرانے کیلئے میاں مٹھو کو باقاعدہ پیسے دیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی آئی جی سکھر نے میاں مٹھو کو گرفتار کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم اب تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔ ان کے بقول سندھ کے منتخب نمائندے بھی میاں مٹھو سے خوف زدہ ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی آئی جی سکھر کے مطابق پولیس نے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، تاہم اس کے باوجود پریا کماری کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا۔
واضح رہے کہ پریا کماری کی بازیابی کا معاملہ سندھ میں ہندو برادری اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے مسلسل اٹھایا جاتا رہا ہے۔