گوجرانوالہ: پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں عاشورہ (10 محرم) کے روز لنگر (بريانی) تقسیم کرنے پر ایک احمدی شخص کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کر کے سات روزہ عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) 6 جولائی کو سیٹلائٹ ٹاؤن تھانے میں درج کی گئی، جس میں کہا گیا کہ مذکورہ واقعہ اسی روز شام 4:30 بجے پیش آیا۔ مقدمہ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 298(سی) کے تحت درج کیا گیا ہے، جو احمدی برادری کے ایسے اقدامات کو مجرمانہ قرار دیتی ہے جن میں وہ خود کو مسلمان کہیں یا اپنے مذہب کو اسلام سے منسلک کریں۔
گوجرانوالہ کے سٹی پولیس آفیسر کے پبلک ریلیشنز آفيسر عرفان کے مطابق
“ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے۔”
ایف آئی آر میں مدعی نے الزام لگایا کہ اس نے احمدی شخص کو لنگر میں بریانی تقسیم کرتے اور خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے دیکھا۔ مزید یہ بھی کہا گیا کہ “ملزم اسلامی طور طریقوں سے بات کر رہا تھا اور انہی کی طرح عمل کر رہا تھا۔”
مدعی کے مطابق جب اُس نے دو افراد کو بلایا تو ملزم موقع سے فرار ہوگیا۔
مدعی نے رپورٹ میں یہ بھی لکھوایا کہ احمدی شخص اسلامی عبادات ادا نہیں کرسکتا، لہٰذا اس کا یہ عمل قابل گرفت ہے۔
شدید ردعمل:
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکومت اس ایف آئی آر کو ختم کرے گی۔

گزشتہ ماہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایل ایچ سی بی اے) نے پنجاب پولیس کے سربراہ کو ایک خط لکھ کر احمدی برادری کو عیدالاضحیٰ کے موقع پر اسلامی رسومات ادا کرنے سے روکنے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔
خط میں کہا گیا کہ احمدیوں سمیت دیگر مذاہب یا فرقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسلامی شعائر یا علامات استعمال کرنے کی قانونی یا شرعی اجازت نہیں۔
انسانی حقوق کی صورتحال:
رواں سال مارچ میں انسانی حقوق کمیشن پاکستان (ایچ آر سی پی) نے اپنی سالانہ رپورٹ “محصور: مذہبی آزادی کی صورتحال 2023-24” میں لکھا کہ احمدیوں کے خلاف توہینِ مذہب کے بڑھتے ہوئے مقدمات میں اکثریت سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی غلط معلومات کی بنیاد پر درج کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق:
اکتوبر 2023 تک 750 سے زائد افراد توہینِ مذہب کے الزامات میں قید تھے۔
مذہبی اقلیتوں کے گھروں اور عبادت گاہوں پر ہجوم کے حملوں میں اضافہ ہوا۔
احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی، خواتین کی جبری تبدیلی مذہب، اور پولیس کی جانب سے خود مقدمات کا اندراج تشویشناک رجحانات میں شامل ہیں۔
ایچ آر سی پی نے خبردار کیا کہ توہینِ مذہب کے قوانین کا احمدی برادری کے خلاف “ہتھیار” کے طور پر استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے ان کی مذہبی آزادی مزید محدود ہو رہی ہے۔