نئی دھلی(ویب ڈیسک) انڈیا کی شمالی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع اترکاشی میں منگل کے روز بادل پھٹنے کے بعد آنے والے شدید سیلابی ریلے نے علاقے میں تباہی مچا دی ہے۔ حکام کے مطابق اس قدرتی آفت کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 100 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ لاپتہ افراد میں انڈین فوج کے متعدد اہلکار بھی شامل ہیں۔
انڈیا کے نائب وزیر دفاع سنجے سیٹھ نے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:
“صورتحال نہایت سنگین ہے۔ ہمیں چار اموات اور تقریباً 100 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہم سب کی خیریت کے لیے دعا گو ہیں۔”
اس ہنگامی صورتحال کے بعد علاقے میں فوج، نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (NDRF) اور دیگر امدادی ادارے فوری طور پر متحرک کر دیے گئے ہیں۔
دھرالی گاؤں: تباہی کا مرکز
حادثے سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ دھرالی گاؤں ہے، جو دریائے کھیر گنگا کے کنارے اور چین کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ یہ مقام ہندوؤں کے مقدس چار دھام یاترا کے راستے میں آتا ہے اور اپنی سیاحتی اہمیت کے سبب وہاں ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں کی بہتات ہے۔
حکام کے مطابق، بادل پھٹنے کا یہ واقعہ منگل کی دوپہر پیش آیا۔ اس کے بعد آنے والے مٹی، پتھروں اور پانی کے طوفانی ریلے نے گاؤں کی کئی عمارتوں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
محکمہ موسمیات کی وارننگ اور بارش کا ریکارڈ
انڈیا کے محکمۂ موسمیات نے واقعے سے قبل ہی اترکاشی اور قریبی علاقوں کے لیے ریڈ الرٹ جاری کیا تھا۔ حکام کے مطابق 24 گھنٹوں میں بعض علاقوں میں 300 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی، جو اس ہنگامی صورتحال کی بنیادی وجہ بنی۔
ویڈیوز اور عینی شاہدین
واقعے کے وقت بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک زوردار ریلا مٹی اور پتھروں کے ساتھ گاؤں کی جانب بڑھتا ہے اور کئی مکانات، دکانوں اور دیگر عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔
فوجی جوان بھی زد میں
انڈین فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل منیش سریواستو نے میڈیا کو بتایا کہ:
“14 راجپوتانہ رائفلز کے کمانڈنگ آفیسر کرنل ہرش وردھن 150 اہلکاروں کے ساتھ ریسکیو آپریشن کی قیادت کر رہے ہیں، تاہم کیمپ بھی شدید بارشوں سے متاثر ہوا ہے۔” ان کے مطابق،
“کیمپ میں پانی داخل ہونے کے بعد 11 فوجی لاپتہ ہوئے، جن میں سے دو کو محفوظ نکال لیا گیا ہے، لیکن 9 اب بھی لاپتہ ہیں۔”
فوج نے اس علاقے میں ٹریننگ یافتہ کتے، ڈرونز، ملبہ ہٹانے کی مشینری اور دیگر امدادی سامان بھیج دیا ہے، جبکہ متاثرہ افراد کی تلاش کے لیے ہیلی کاپٹرز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔۔”
متاثرین کی حالت اور مقامی دعوے
ڈی آئی جی NDRF محسن شہیدی کے مطابق تقریباً 40 سے 50 مکانات مکمل طور پر بہہ چکے ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ تباہی کی سطح بہت وسیع ہے اور جانی و مالی نقصان کی حقیقی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
اعلیٰ سطحی ردعمل
وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاستی وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو ٹیگ کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا:
“ریاستی حکومت کی نگرانی میں ریسکیو ٹیمیں ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں۔ عوام کی مدد میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔”
دوسری جانب راہل گاندھی نے بھی واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کانگریس کارکنوں کو متاثرہ علاقوں میں فوری امداد فراہم کرنے کی ہدایت دی ہے۔
بادل پھٹنا کیا ہوتا ہے؟
محکمۂ موسمیات کے مطابق، اگر کسی مخصوص علاقے (تقریباً 1 سے 10 کلومیٹر کے اندر) میں ایک گھنٹے کے اندر 10 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو، تو اسے “بادل پھٹنا“ کہا جاتا ہے۔
یہ عموماً پہاڑی علاقوں میں ہوتا ہے جہاں زمین کی بناوٹ بادلوں کو روک کر شدید بارش کا سبب بنتی ہے۔ ایسے واقعات اکثر مون سون کے دوران یا اس سے کچھ عرصہ قبل پیش آتے ہیں، خاص طور پر مئی تا اگست۔
کیا بادل پھٹنے کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے؟
چونکہ یہ ایک انتہائی محدود پیمانے پر ہونے والا قدرتی عمل ہے، اس لیے اس کی قبل از وقت درست پیش گوئی کرنا انتہائی مشکل ہے۔ اس کے لیے اعلیٰ ریزولوشن ریڈارز اور جدید موسمی ماڈلز کی ضرورت ہوتی ہے، جو انڈیا میں اب بھی مکمل طور پر دستیاب نہیں۔