کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی ایک بار پھر موسلا دھار بارش کی لپیٹ میں آگیا۔ دن بھر جاری رہنے والی بارش نے شہر کو مفلوج کرکے رکھ دیا، اہم شاہراہیں زیرِ آب آگئیں، ٹریفک کی روانی معطل ہوگئی، سینکڑوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں جبکہ بجلی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ سندھ حکومت نے شہر میں ہنگامی حالات نافذ کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں تک محدود رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اہم شاہراہیں زیرِ آب
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں مجموعی طور پر 145 ملی میٹر کے قریب بارش ریکارڈ کی گئی۔ شدید بارش کے نتیجے میں شاہراہِ فیصل، ایم اے جناح روڈ اور آئی آئی چندریگر روڈ سمیت مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر پانی میں ڈوب گئیں۔ نکاسی آب نہ ہونے کے باعث کئی علاقوں میں پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا جبکہ گاڑیاں سڑکوں پر ہی بند ہوکر رہ گئیں۔
ٹریفک اور شہری زندگی متاثر
بارش کے بعد ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی۔ گھنٹوں تک شہری اپنی گاڑیوں میں پھنسے رہے، بعض مقامات پر ایمبولینسز اور ریسکیو گاڑیاں بھی آگے بڑھنے سے قاصر رہیں۔ شہریوں نے انتظامیہ کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور شکایت کی کہ بروقت نکاسی آب کے اقدامات نہیں کیے گئے۔
بجلی کی فراہمی معطل
بارش کے ساتھ ہی شہر کے متعدد علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہوگئی۔ کے الیکٹرک کے مطابق ایک درجن سے زائد فیڈرز ٹرپ ہونے کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی بند ہوئی۔ ترجمان کے مطابق فیلڈ ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کام میں مصروف ہیں، تاہم بارش کے باعث رکاوٹیں پیش آرہی ہیں۔
حکومت اور انتظامیہ کے اقدامات
سندھ حکومت نے کراچی میں ہنگامی حالات کا اعلان کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں کو کہا گیا ہے کہ وہ ندی نالوں، کمزور عمارتوں اور بجلی کے پولز کے قریب جانے سے اجتناب کریں۔
وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ہدایت دی ہے کہ نکاسی آب کے فوری انتظامات کیے جائیں اور متاثرہ شہریوں کو ریسکیو کرنے کے لئے تمام ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے تمام ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا ہے۔
شہریوں کی مشکلات
بارش کے باعث معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ دفاتر سے گھروں کو واپس جانے والے افراد گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہے جبکہ تعلیمی اداروں میں بھی حاضری معمول سے کم رہی۔ کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہونے سے شہریوں کو اپنی اشیاء محفوظ مقامات پر منتقل کرنی پڑیں۔