گھوٹکی میں ہرن کا غیر قانونی شکار، 4 ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

گھوٹکی(رپورٹر) ضلع گھوٹکی کے صحرائی علاقے میں ہرن کے غیر قانونی شکار کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے جبکہ ایک ملزم کی تلاش جاری ہے۔

سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن پولیس گھوٹکی کے انسپکٹر پٹھان گڈانی کی مدعیت میں تھانہ ڈہرکی پر جنگلی حیات تحفظ ایکٹ 2020 کی دفعات (1) 9 اور 21 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں ملزمان پنھل ولد الف شر، عمران ولد خان شر، حضور بخش ولد رحیم ڈنو شر اور محبوب ولد سچل شر سمیت ایک نامعلوم شخص کو نامزد کیا گیا ہے۔

قانون کے مطابق چنکارا ہرن کا شکار، اسے پھانسنا، زخمی کرنا، اس کے رہائشی ماحول کو نقصان پہنچانا یا کسی بھی قسم کی مداخلت کرنا ممنوع اور قابلِ سزا جرم ہے۔ سندھ وائلڈ لائف پروٹیکشن ایکٹ کے شیڈول III کے مطابق اس جرم کی سزا پانچ سال قید یا بھاری جرمانہ مقرر ہے۔

وائلڈ لائف حکام کے مطابق ایک نامعلوم شخص، جو ویڈیو میں بھی نظر آرہا ہے، کی تلاش جاری ہے۔ اس شخص کے ہاتھ کی دو انگلیاں کٹی ہوئی ہیں اور امکان ہے کہ وہ لوہی پل یا اس کے قریبی علاقے کا رہائشی ہے۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اس شخص کے بارے میں کسی بھی قسم کی معلومات فراہم کریں، اطلاع دینے والے کا نام اور شناخت مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھی جائے گی۔

سندھ وائلڈ لائف ڈپارٹمنٹ نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے غیر قانونی شکار کے خلاف سخت کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اپنا تبصرہ لکھیں