سندھ کے مختلف شہروں میں شدید بارش، سڑکیں اور علاقے زیرِ آب، حادثات میں 6 افراد جاں بحق

سکھر (نیوز ڈیسک) سندھ کے مختلف شہروں میں شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے جس کے باعث متعدد علاقے زیرِ آب آگئے ہیں اور نظامِ زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ہے۔ سکھر، شکارپور، پنوعاقل، خیرپور، لاڑکانہ، کندھکوٹ-کشمور اور جیکب آباد، امرکوٹ، بدین، ٹھٹھہ سمیت کئی شہروں کی سڑکیں بارش کے پانی میں ڈوب گئیں، جبکہ میونسپل انتظامیہ برسات کے پانی کی نکاسی میں ناکام نظر آرہی ہے۔ سندھ کے دارالخلافہ کراچی میں بھی ہلکی برسات کے بعد موسم خوش گوار ہوگیا۔

سکھر میں شالیمار، جیل روڈ، گھنٹہ گھر، بیراج کالونی، نیو پنڈ اور مائیکرو کالونی سمیت مختلف علاقوں میں پانی جمع ہے جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

روہڑی میں دیوار گرنے سے 3 بچے جاں بحق، 2 شدید زخمی

روہڑی کے قریب پٹنی تھانے کی حدود ٹنڈو بوراھیو میں تیز بارش کے باعث ایک دیوار گر گئی جس کے نتیجے میں تین معصوم بچے جاں بحق اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ جاں بحق بچوں کی شناخت خالد ولد کریم بخش ابڑو، شاہ زیب ولد شفیع محمد شیخ اور درمحمد ولد روشن علی ابڑو کے نام سے ہوئی ہے۔ جبکہ غلام مرتضیٰ اور سیف الرحمان شدید زخمی ہیں۔

جاں بحق بچوں اور زخمیوں کو فوری طور پر تعلقہ اسپتال روہڑی منتقل کیا گیا، جہاں ضروری کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کردی گئیں جبکہ زخمیوں کو تشویش ناک حالت کے باعث سکھر سول اسپتال ریفر کردیا گیا۔ ورثا کے مطابق بچے بارش میں کھیلنے کے لیے باہر نکلے تھے کہ اچانک دیوار ان پر گر گئی۔ بچوں کے لاشیں گھروں کو پہنچنے پر کہرام مچ گیا.

سکھر کے مصطفائی کالونی میں امام بارگاہ کی چھت گرنے کا واقعہ بھی پیش آیا جس میں 32 سالہ ساجد نیازی ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگیا۔

جبکہ سکھر کے جناح میونسپل اسٹیڈیم میں کرکٹ کھیلتے ہوئے 14سالہ ازلان گری ہوئی بجلی کی تار سے کرنٹ لگنے کے باعث جانبحق ہوگیا۔

امر کوٹ( عمرکوٹ)میں آسمانی بجلی گرنے کے سبب ایک شخص جانبحق ہوگیا۔

شدید بارشوں کے باعث سکھر سمیت سندھ کے کئی شہروں میں حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور شہریوں کو احتیاط برتنے کی اپیل کی گئی ہے.

اپنا تبصرہ لکھیں