کاربن کے خاتمے کیلئے سندھ حکومت کا دریائی کچے میں 88 ہزار ہیکٹر پر جنگلات لگانے کا فیصلہ

کراچی (انڈس ٹربیون) — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) پالیسی بورڈ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں جنگلات، ماحولیات اور سرمایہ کاری سے متعلق اہم منصوبوں کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، ناصر حسین شاہ، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، حاجی علی حسن زرداری، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سرمایہ کاری قاسم نوید قمر، رکن صوبائی اسمبلی قاسم سومرو، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا وسیم، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقی نجَم شاہ، ڈائریکٹر جنرل پی پی پی یونٹ و سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، بورڈ کے دیگر اراکین اور متعلقہ افسران شریک تھے۔

دریائی جنگلات کی بحالی کا منصوبہ

اجلاس میں “جنگلات کے ذریعے کاربن کے خاتمے کا منصوبہ” منظور کیا گیا، جس کے تحت ضلع جامشورو اور مٹیاری میں تقریباً 41 ہزار ہیکٹر رقبے پر دریائی جنگلات لگائے جائیں گے۔ یہ منصوبہ سندھ کے دریائی جنگلات کی بحالی، ماحولیاتی اثرات میں کمی، اور پاکستان میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوگا۔

محکمہ جنگلات کو تین بولی پیکیجز کے لیے کامیاب بولی دہندگان کو ایوارڈ لیٹر جاری کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے، جبکہ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدے جلد طے پا جائیں گے۔

4 کروڑ کاربن کریڈٹس کی پیداوار متوقع

منصوبے کے تحت لگائے جانے والے جنگلات سے تقریباً 3.5 سے 4 کروڑ کاربن کریڈٹس پیدا ہونے کا امکان ہے، جنہیں بین الاقوامی کاربن مارکیٹس میں فروخت کیا جائے گا۔ اس سے سندھ کو نمایاں زرمبادلہ حاصل ہونے کی توقع ہے۔

مزید برآں، بورڈ نے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی خدمات حاصل کرنے کی بھی منظوری دی ہے تاکہ تقریباً 88 ہزار ہیکٹر رقبے پر نئے دریائی فاریسٹریشن منصوبے کی فزیبلٹی اسٹڈی تیار کی جا سکے۔

سندھ حکومت کے مطابق، یہ اقدام نہ صرف ماحولیاتی توازن بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے ماحولیاتی اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

اپنا تبصرہ لکھیں