سکھر(رپورٹ: توصیف کھوسو) سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (سیپا) کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنے سکھر کے دورے کے دوران بڑی اسپتالوں، صنعتی اداروں اور کِیرتھر کینال کا معائنہ کیا اور ماحولیات سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔
دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل سیپا نے حِرا میڈیکل سینٹر اور رِور سٹی اسپتال کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے اسپتالوں میں طبی فضلے کی علیحدگی، جمع کرنے، ذخیرہ کرنے اور تلف کرنے کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ناقص انتظامات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ہاسپٹل ویسٹ مینجمنٹ رولز 2014 پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔
ڈائریکٹر جنرل سیپا نے زور دیا کہ صحت کے تمام ادارے ماحول دوست ٹیکنالوجیز جیسے انسینیٹرز اور آٹو کلیوز کا استعمال کریں تاکہ ماحول اور عوامی صحت کو نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔
بعد ازاں ڈائریکٹر جنرل سیپا نے کنٹینینٹل بسکٹس لمیٹڈ، سکھر بیوریجز لمیٹڈ، اللہ توکل ریرولنگ اسٹیل مل اور سائٹ ایریا سکھر میں نصب نجی انسینیٹر پلانٹس سمیت مختلف صنعتی یونٹس کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے صنعتی اداروں میں آلودہ پانی کے علاج، فضلے کے انتظام اور گیسوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کے نظام کا جائزہ لیا اور واضح ہدایت کی کہ تمام ادارے سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 2014 پر سختی سے عمل کریں۔
ڈائریکٹر جنرل سیپا نے ضلعی انچارج کو بھی ہدایت کی کہ اسپتالوں اور صنعتی اداروں کو ماحولیات کے قوانین پر عملدرآمد کے لیے نوٹسز جاری کیے جائیں اور اس حوالے سے رپورٹ جلد جمع کرائی جائے۔
دورے کے دوران ڈائریکٹر جنرل سیپا نے کیرتھر کینال کا بھی معائنہ کیا، جہاں میونسپل کارپوریشن کی جانب سے گندے پانی کو بغیر کسی صفائی یا ٹریٹمنٹ کے براہِ راست نہر میں خارج کیے جانے پر انہوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا اور اسے ماحولیات کے قوانین کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے متعلقہ بلدیاتی ادارے کو فوری طور پر اصلاحی اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔