نصیر میمن
ملک میں 27ویں آئینی ترمیم کی بازگشت کچھ عرصے سے جاری تھی، اب اس کے کچھ نکات عوام کے سامنے لائے جا رہے ہیں۔ چونکہ اس ترمیم کا مکمل مسودہ تاحال سامنے نہیں آیا اور مختلف حصے ادھر اُدھر سے منظرِ عام پر آ رہے ہیں، اس لیے فی الحال جو بحث یا رائے ممکن ہے، وہ انہی محدود معلومات کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔
تین دن قبل وفاقی وزیرِ مواصلات علیم خان نے ایک فارمولا پیش کیا، جس کے مطابق ہر صوبے کو تین انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا جائے گا، اور اس کے اگلے روز پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ایکس (X) پر بیان سامنے آیا۔ اس بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ وزیراعظم نے صدر زرداری سے ملاقات میں 27ویں ترمیم کی حمایت مانگی ہے۔ اس بیان، سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا سے حاصل معلومات کے مطابق اس مجوزہ ترمیم کے اہم نکات یہ ہیں:
1. 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبوں کو منتقل کیے گئے اہم اختیارات، مثلاً تعلیم اور آبادی پر کنٹرول، دوبارہ وفاق کے پاس لے جائے جائیں۔
2. 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو دی گئی مالی خودمختاری اور این ایف سی ایوارڈ میں ملنے والے حصے کی آئینی ضمانت ختم کی جائے۔ موجودہ آئین کے آرٹیکل 160 کے مطابق، صوبوں کا حصہ پچھلے ایوارڈ سے کم نہیں کیا جا سکتا۔
3. آئین کے آرٹیکل 239 میں تبدیلی کے ذریعے صوبوں کی جغرافیائی حدود میں رد و بدل کے عمل کو آسان بنایا جائے۔ موجودہ قانون کے مطابق، کسی صوبے کی سرحد میں تبدیلی کے لیے نہ صرف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت بلکہ متعلقہ صوبائی اسمبلی سے بھی دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ اگرچہ بلاول بھٹو کے بیان میں اس نکتے کا ذکر نہیں تھا، مگر بعض ذرائع دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ نکتہ بھی شامل کیا جائے گا۔
یہ تو ان اطلاعات کے مطابق چند حصے ہیں جو اب تک سامنے آئے ہیں۔ جب مکمل مسودہ آئے گا تو معلوم ہوگا کہ اس میں مزید کیا کچھ شامل ہے۔
18ویں آئینی ترمیم ملک کے قیام کے بعد وفاق سے صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے ایک بڑی آئینی پیش رفت تھی۔ اس کے تحت آئین میں تقریباً 100 ترامیم کی گئیں، جن سے صوبوں کے اختیارات میں نمایاں اضافہ ہوا۔ وفاق کے 17 محکمے، جو پہلے مشترکہ فہرست یا وفاقی فہرست میں شامل تھے، صوبوں یا مشترکہ مفادات کونسل کے سپرد کیے گئے۔ تاہم وفاق نے چالاکی سے ان محکموں کے نام بدل کر وہی وزارتیں اسلام آباد میں برقرار رکھیں۔
26 دسمبر 2023ء کو ایک انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق، بلاول بھٹو نے نواب شاہ میں بختاور کیڈٹ کالج کی تقریب میں کہا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد 17 وفاقی وزارتیں غیرضروری ہوچکی ہیں، جن پر ہر سال 300 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح روزنامہ ڈان (20 فروری 2025ء) کے مطابق، وفاقی حکومت کے ماتحت خودمختار اداروں نے گزشتہ مالی سال میں 851 ارب روپے کا خسارہ کیا، جبکہ مجموعی طور پر ان اداروں کے نقصانات 9200 ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
وفاقی حکومت اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے صوبوں کے حصے پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر پہلے پٹرولیم مصنوعات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) لگایا جاتا تھا جو این ایف سی کے تحت صوبوں میں تقسیم ہوتا تھا، مگر اس سال وفاق نے جی ایس ٹی ختم کر کے اس کی جگہ “پٹرولیم لیوی” نافذ کر دی، جس کی آمدنی براہِ راست وفاقی خزانے میں جاتی ہے۔ روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون (11 جون 2025ء) کے مطابق، اس مد میں 1470 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔ اگر یہ جی ایس ٹی کے طور پر جمع ہوتی تو تقریباً 850 ارب روپے صوبوں کو ملنے تھے۔ لیکن وفاق نے ان رقوم کو این ایف سی تقسیم سے باہر کر دیا، اور افسوس کہ کسی صوبے نے اس زیادتی پر آواز نہیں اٹھائی۔
درحقیقت، وفاق اپنے غیرضروری اخراجات کم کرنے اور غیر ضروری ملازمین کی فوج گھٹانے کے بجائے صوبوں کے مالی وسائل پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔
جہاں تک 18ویں ترمیم کا تعلق ہے، وفاق پہلے ہی 17 محکمے صوبوں کو منتقل کرنے سے انکاری ہے۔ اس کے علاوہ اس نے “اسٹریٹجک انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC)” قائم کر کے وہ محکمے بھی اسلام آباد کے کنٹرول میں لے لیے ہیں جو 18ویں ترمیم سے پہلے بھی خالصتاً صوبائی دائرہ کار میں آتے تھے، جیسے زراعت، آئی ٹی، اور معدنیات۔
اب اگر تعلیم اور آبادی کنٹرول جیسے شعبے بھی وفاق کے حوالے کیے گئے تو بتدریج دیگر محکمے بھی واپس لے لیے جائیں گے۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ صوبے آبادی پر کنٹرول نہیں کر سکتے، تو وفاق کی اہلیت پولیو اور ملیریا کنٹرول کے نتائج سے بخوبی ظاہر ہے۔
آبادی کے کنٹرول کے لیے ضروری ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں آبادی کے 82 فیصد وزن کو کم کیا جائے۔ بھارت میں مالی وسائل کی تقسیم میں آبادی کو صرف 15 فیصد وزن دیا گیا ہے، جبکہ 12.5 فیصد وزن آبادی پر قابو پانے کے لیے مختص ہے۔ پاکستان کو بھی چاہیے کہ آبادی کی بنیاد پر 82 فیصد حصے کو گھٹا کر 30 یا 40 فیصد کیا جائے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس ترمیم میں صوبوں کی جغرافیائی حدود میں تبدیلی کے عمل کو نرم کیا جائے گا یا نہیں، لیکن اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو ملک بھر میں ایک نیا طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ صوبے محض انتظامی یونٹ نہیں ہیں؛ وہ اس ملک کے بانی ہیں۔ ان کی جغرافیائی حیثیت کو تبدیل کرنے کا وفاق کو کوئی اختیار نہیں۔ ماضی میں ون یونٹ نافذ کرنے کی کوشش نے ملک کے ٹکڑے کیے، ایسی کسی نئی کوشش سے بھی سیاسی نقصان ہوگا۔
مجموعی طور پر، 27ویں ترمیم صوبوں کو ملی محدود خودمختاری اور وسائل دوبارہ اسلام آباد کے حوالے کرنے کا ذریعہ بنے گی۔ پیپلز پارٹی اب تک 18ویں ترمیم اور ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو اپنی بڑی کامیابی قرار دیتی رہی ہے؛ اس پر سمجھوتا کرنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔
پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی ایسے فیصلے کیے جو عوامی مفاد کے خلاف تھے اور عوامی دباؤ پر واپس لینے پڑے، جیسے دوہرا بلدیاتی نظام، جزیروں کی فروخت، اور متنازعہ نہروں کے معاملات۔ اب بھی سندھ کے عوام کو اپنی تاریخی شناخت، جغرافیائی سالمیت اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔
یہ ترمیم صوبوں کو ان کے محدود آئینی حقوق سے محروم کرنے کی کوشش ہے، جس کے نتیجے میں صوبوں اور اسلام آباد کے درمیان فاصلے مزید بڑھیں گے اور ملک میں ایک نیا سیاسی بحران جنم لے گا۔
پیپلز پارٹی نے اس مسئلے پر غور کے لیے مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس طلب کیا ہے۔ پارٹی قیادت کو اس نظام میں حاصل سیاسی مفادات کا علم ہے — جن میں حال ہی میں کشمیر حکومت میں حصہ بھی شامل ہے۔ ممکن ہے مستقبل میں بلاول بھٹو کو وزارتِ عظمیٰ کا لالچ بھی دیا جائے، لیکن یہ سب پیپلز پارٹی کی تاریخی کامیابیوں — 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ — کی قیمت پر ہوگا۔
سیاسی طور پر اس ترمیم کی حمایت پیپلز پارٹی کے لیے خودکشی ہوگی۔ اس سے پارٹی اپنی عوامی ساکھ کو برباد کر لے گی۔ پارٹی کے اندر موجود باشعور رہنماؤں کو قیادت کے سامنے خاموش رہنے کے بجائے عوام، بالخصوص سندھ کے عوام کو اس خطرے سے آگاہ کرنا چاہیے، کیونکہ سندھ کا عوام اس قسم کی ترمیم کو کبھی قبول نہیں کرے گا.
(جناب نصیر میمن کا یہ کالم سندھی روزنامے کاوش کی 5 نومبر 2025 والی اشاعت میں شایع ہوا تھا، انڈس ٹربیون کے قارئین کیلئے اردو میں ترجمہ کیا گیا ہے. )